تھر میں ہلاکتوں کے متعدد اسباب: سیشن جج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایڈیشنل سیشن جج نے کہا ہے کہ خوراک کی تقسیم کے لیے وہی طریقہ اختیار کی جائے جو انتخابات میں ووٹنگ کے لیے اپنایا گيا تھا

سندھ کے صحرائی علاقے تھر کے ایڈیشنل سیشن جج اور امدادی کاموں کے نگران جج میاں فیاض ربانی نے قرار دیا ہے کہ بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی وجہ خوراک کی کمی یا عدم دستیابی اور بارش نہ ہونے کے ساتھ ساتھ محکمہ صحت کی لاپروائی، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی غیر حاضری بھی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر نے تھر میں قحط سالی کے متعلق درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج کو اپنی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔

ایڈیشنل سیشن جج میاں فیاض ربانی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھوک اور قحط نے حاملہ خواتین اور بچوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ کی حکومت جو گندم تقسیم کر رہی ہے وہ 50 کلوگرام فی خاندان ہے جن میں غیر شادی شدہ افراد شامل نہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ غیر شادی شدہ افراد کھانا نہیں کھاتے یا وہ متاثرین نہیں۔

انھوں نے سفارش کی ہے کہ مقررہ وقت کے اندر گندم، خوراک اور چارے کی منصفانہ تقسیم کی جائے۔ انھوں نے گذشتہ انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان انتخابات میں ضلعے میں 515 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے تھے جہاں تک ہر ووٹر کو رسائی تھی، ہر فرد کو ووٹ دینے کے لیے تمام تر سامان ان سٹیشنوں تک پہنچایا گیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ امدادی سامان ہر جگہ نہیں پہنچ پایا۔

میاں فیاض ربانی نے مشورہ دیا ہے کہ گندم، خوراک اور چارے کی تقسیم کے لیے بھی وہی طریقۂ کار اختیار کیا جائے جو انتخابات میں کیا گیا تھا اور امدادی سامان کی تقسیم ووٹر لسٹ کی بنیاد پر ہو اور ہر شناختی کارڈ پر 50 کلو گرام گندم دی جائے۔

ایڈیشنل سیشن جج نے بتایا ہے کہ تھر میں لوگوں کا گزر بسر مال مویشیوں پر ہے، اس لیے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ متعلقہ محکمہ ان جانوروں کی صحیح اور مقررہ وقت پر ویکیسن کرے۔

انھوں نے تھر میں بیماریوں کی ایک بڑی وجہ وہاں موجود پانی کو قرار دیا ہے اور تجویز پیش کی ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر متعلقہ محکمے ریورس اوسموسس پلانٹ لگائیں تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تھر میں انسانوں کے علاوہ مویشیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے

رپورٹ کے مطابق ضلعی ہپستال اور تحصیل کے ہپستالوں کی بار بار انسپیکشن کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ڈیپلو، چھاچھرو، اسلام کوٹ اور ننگرپارکر تحصیل ہپستال اور ڈسپینسریاں مکمل طور پر فعال نہیں ہیں۔ ان کے مطابق وہاں بچوں اور خواتین کے امراض کے ماہرین کی تعیناتی نہیں ہوسکی ہے اور دور دراز کے علاقوں میں صحت کی کوئی سہولت دستیاب نہیں اور غریب متاثرین تحصیل اور ضلعی ہپستال تک پہنچ نہیں سکتے۔

میاں فیاض ربانی نے سفارش کی ہے کہ ضلعے کے دور دراز علاقوں میں صحت کے مسائل کے بارے میں آگاہی کے لیے محکمۂ منصوبہ بندی اہم کردار ادا کر سکتا ہے، ماں اور بچے کو بیماریوں سے بچانے کے لیے متعلقہ محکموں کو حفاظتی ٹیکوں کا پروگرام چلانا چاہیے، اس کے ساتھ تمام ڈسپنیسریوں اور صحت مراکز کو فعال بنایا جائے اور وہاں ڈاکٹروں، اسٹاف اور ادویات کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے ڈی آئی جی پولیس حیدرآباد ثنا اللہ عباسی بھی اپنی رپورٹ پیش کر چکے ہیں، جس میں تھر کی صورتحال کا ذمہ دار ضلعی انتظامیہ، محکمۂ ریلیف، محکمۂ خزانہ، صحت اور محکمۂ خوراک کی غفلت کو قرار دیا ہے۔

ثنا اللہ عباسی کی رپورٹ کے مطابق ضلعے میں گذشتہ تین برسوں سے بچوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں لیکن اس رجحان کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا اور نہ ہی آنے والی ایمرجنسی کے لیے کوئی منصوبہ بندی کی گئی۔ اس طرح محکمۂ صحت اور لائیو سٹاک کے پاس قحط سالی کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی یا منصوبہ بندی موجود نہیں۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ سال ماہِ ستمبر میں ضلعے کو آفت زدہ قرار دینے کے لیے سمری روانہ کی گئی جو مختلف افسران اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے درمیان گشت کرتی رہی بالآخر پانچ ماہ بعد فروری میں آفت زدہ قرار دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ چیف سیکریٹری، صوبائی سیکریٹری صحت اور ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی اور تبادلوں کی وجہ سے بھی تھر کو آفت زدہ قرار دینے کا عمل متاثر ہوا۔

اسی بارے میں