سردار مہتاب عباسی گورنر خیبر پختونخوا مقرر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے رہنما سردارمہتاب احمد خان صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 45 ایبٹ آباد سے منتخب ہوئے تھے

پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت نے دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے خیبر پختونخوا کا گورنر پارٹی کے سینئر رکن سردار مہتاب عباسی کو مقرر کر دیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ممنون حسین نے سردار مہتاب عباسی کو گورنر مقرر کرنے کی سمری پر دسختط کر دیے ہیں۔

سردار مہتارب عباسی خیبر پختونخوا اسمبلی میں ہزارہ کے علاقے سے گزشتہ انتخابات میں منتخب ہوئے تھے۔

گزشتہ روز انھوں نے اسمبلی کی رکنیت سے بغیر کوئی وجہ بیان کیے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد سے ان کے گورنر مقرر کیے جانے کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں۔

پارٹی کے ایک پرانے رکن کو گورنر مقرر کیا جانا خاص طور پر ایک ایسے صوبے میں جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے سیاسی طور پر بڑا اہم فیصلہ ہے۔

سردار مہتاب احمد خان صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 45 ایبٹ آباد سے منتخب ہوئے تھے۔

مہتاب عباسی کو انجینیئر شوکت اللہ کی جگہ گورنر مقرر کیا گیا ہے ۔

ذرائع نے بتایا کہ انجینیئر شوکت اللہ نے گورنر کے عہدے سے اپنا استعفی پہلے ہی بھیج دیا تھا۔

مسلم لیگ نواز کی مرکز میں حکومت قائم ہونے کے بعد سے یہ اطلاعات تھیں کہ گورنر شوکت اللہ کو تبدیل کر کے مسلم لیگ کی مرکزی قیادت اپنے کسی رہنما کو گورنر کے عہدے پر تعینات کرے گی۔ اس سلسلے میں سردار مہتاب کے علاوہ اقبال ظفر جھگڑا اور یہاں تک امیر مقام کا نام بھی لیا جاتا رہا ۔

سردار مہتاب احمد خان خیبر پختونخوا اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی لیڈر تھے۔ سردار مہتاب سنہ 1997 سے 1999 تک خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلی رہ چکے ہیں۔

سنہ 2008سال دو ہزار آٹھ میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تھی سردار مہتاب اس وقت کابینہ میں وفاقی وزیر ریلوے مقرر ہوئے تھے لیکن بعد پی ایم ایل اور پی پی پی کا اتحاد قائم نہ رہا تو وہ مستعفی ہو گئے تھے۔ سردار مہتاب سینیٹر بھی رہے ہیں۔

اسی بارے میں