پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بنوانے کی درخواست دے دی ہے: الطاف حسین

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption الطاف حسین سنہ 1992 میں کراچی میں آپریشن کے آغاز کے وقت ملک چھوڑ کر لندن چلے گئے تھے اور اس وقت سے خود ساختہ جلا وطنی میں رہ رہے ہیں

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے ہفتے کو کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ انہوں نے پاسپورٹ بنوانے کےلیے درخواست دے دی ہے۔

یہ بات انہوں نے لندن سے کراچی میں نذیر حسین یونیورسٹی کے نئے کیمپس کی افتتاحی تقریب سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہی۔

واضح رہے کہ الطاف حسین سنہ 1992 میں کراچی میں آپریشن کے آغاز کے وقت ملک چھوڑ کر لندن چلے گئے تھے اور اس وقت سے خود ساختہ جلا وطنی میں رہ رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق الطاف حسین کا پاسپورٹ 1991 میں جاری کیا گیا تھا جس کی معیاد اب ختم ہو چکی ہے۔ اسی طرح ان کا قومی شناختی کارڈ کی معیاد بھی ختم ہو چکی ہے۔

ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان ان کا وطن تھا، ہے اور زندگی بھر رہے گا۔

’میرے دل سے وطن کی محبت کوئی کم نہیں کرسکتا۔ میں نے پاسپورٹ بنوانے کے لیے پاکستانی ہائی کمیشن میں درخواست دے دی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے 4 اپریل 2014 کو شناختی کارڈ اور پاکستانی پاسپورٹ بنانے کے لیے درخواست دائر کی ہے۔

یاد رہے کہ لندن میں میٹروپولیٹن پولیس متحدہ قومی موومنٹ کے کئی بینک اکاونٹ بند کرتے ہوئے ٹیکس نہ دینے کے الزامات کے تحت تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے۔

متحدہ کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل اور منی لانڈرنگ کے الزامات پہلے ہی زیرِ تفتیش ہیں۔

برطانوی حکام ایم کیوایم کے خلاف مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

حکام الطاف حسین کی تقریروں کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں انھوں نے مبینہ طور پر دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز باتیں کی تھیں۔

ایم کیو ایم کے خلاف برطانوی حکام منی لانڈرنگ کی تحقیقات بھی کر رہے ہیں۔

گذشتہ دسمبر میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جو ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔

سنہ 2012 میں دسمبر میں برطانوی پولیس نےایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر سے ڈھائی لاکھ پاونڈ مالیت کی مختلف کرنسیاں قبضے میں لی تھیں۔

جون سنہ 2013 میں انھوں نے الطاف حسین کے گھر سے دو لاکھ 30 ہزار پاؤنڈ قبضے میں لیے تھے۔ برطانوی حکام ایم کیو ایم کے خلاف ٹیکس کی عدم ادائیگی سے متعلق تحقیقات بھی کر رہے ہیں۔

الطاف حسین نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ آرٹیکل 6 کے تحت صرف پرویز مشرف پر مقدمہ چلانے والے خود آرٹیکل 6 کے مجرم ہیں۔

’آرٹیکل 6 میں صرف پرویز مشرف کے علاوہ کسی اور کو کیوں نہیں پکڑا گیا حالانکہ پرویز مشرف کا جہاز لینڈ کرنے سے پہلے حکومت چھیننے والے بڑے مجرم ہیں۔پرویز مشرف کا جہاز لینڈ ہونے سے پہلے نواز شریف کو گرفتار کرنے والوں کو بھی سزا دی جائے۔‘

اسی بارے میں