’قیدیوں کی رہائی پر فوج سےاختلاف نہیں، مزید طالبان رہا ہوں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے وزیرِداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات پر سیاسی قیادت اور فوج میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

انھوں نے کہاکہ فوج کی مشاورت کے بعد ہی حکومت صرف غیرعسکری طالبان کو رہا کر رہی ہے۔

یہ بات انھوں نے اتوار کی شام پنجاب ہاوس اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نےان اطلاعات کی سختی سے تردید کی جس میں کہاگیا تھا کہ طالبان اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل پیدا ہوگیاہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل میں کوئی تعطل نہیں ہے۔

انھوں نے کہا گذشتہ جمعرات کو یہاں ہونے والے حکومتی اور طالبان کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ اگرمنگل یا بدھ کومذاکرات شروع نہیں ہوسکے تو پھراس اتوار یعنی تیرہ اپریل کے بعد ہی ہوں گے۔

چوہدری نثار نے واضح کیا کہ فوج اور حکومت مل کر اس مذاکراتی عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ دونوں کی رائے میں اختلاف ہوسکتاہے لیکن ملکی سلامتی پر دونوں ایک پلیٹ فارم پرمتحد ہیں اور جب بھی حکومت اور فوج کسی مسئلے پر متفق ہوتے ہیں تب جا کر میں اس کا اعلان کرتا ہوں۔

طالبان کے عسکری قیدیوں کی رہائی کی وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیرنے کہا کہ قبائلی علاقوں میں زیادہ تر قیدی ان اداروں کے پاس ہیں جو فوج کے کنٹرول میں آتے ہیں اور فوج کو اعتماد میں لیے بغیرکسی ایک قیدی کی رہائی ممکن نہیں ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ 19 غیرعسکری قیدی اب تک رہا ہوئے ہیں ان میں زیادہ ترکا تعلق محسود قبیلے سے تھا اوران کی رہائی بھی فوج سے طویل مشاورت کے بعد ہی عمل میں آئی۔

انھوں نے کہا کہ اب مزید 13 غیر عسکری قیدی جن کا تعلق دیگر قبائل سے ہے وہ بھی فوجی کی رضامندی کے بعد آئندہ چند دنوں میں رہا ہوجائیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں اس وقت سویلن اداروں کی گرفت کم اور تمام انتظام فوج کے ہاتھ میں ہے کیونکہ وہاں ایک جنگ کی صورت حال ہے اور تقریباً سارے قیدی فوج کے پاس ہیں۔

انھوں نے کہا کہ علاقے میں جاری لڑائی میں اگرچہ فی الحال فائربندی ہے لیکن اس کا ہرگزمطلب یہ نہیں ہے کہ عسکری قیدیوں کو رہا کیا جائے اور نہ طالبان کی جانب سے عسکری قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ سامنے آیا ہے اور نہ ہی ہم ان کوچھوڑسکتے ہیں۔

چوہدری نثار نے طالبان کمانڈرز کی رہائی کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت مخالف قوتوں کا پروپیگنڈہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک تو باقاعدہ طور پرمذاکرات بھی شروع نہیں ہوئے اور جب دونوں جانب سے اعتماد کی فضا بحال ہوگی اور ہم کسی مثبت نتیجے پر پہنچ جائیں گے تب جاکر عسکری قیدیوں کی رہائی پر بات چیت ہوگی۔

وفاقی وزیرسے جب پوچھا گیا کہ حکومت کی جانب سے توخیرسگالی کے طور اب تک 19 غیرعسکری طالبان رہا کر دیےگئےاور مزید کی رہائی عمل میں لائی جا رہی ہے تو کیا طالبان کی جانب سے بھی کوئی غیرعسکری قیدی رہا ہواہے جس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں ایک فہرست طالبان کو فراہم کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ توقع ہے کہ طالبان خیرسگالی کے طور پر کچھ لوگوں کو فوری طور پررہا کردیں گے جن میں سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی اور سابق گورنرسلمان تاثیر کے صاحبزادے بھی شامل ہیں جو اغواء برائےتاوان کے لیے طالبان کی قید میں ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت کا ایک ہی ایجنڈہ ہے اور وہ ہے ملک میں امن اور آئین کی بالادستی قائم ہوسکے اور اس بارے میں سیاسی جماعتوں کو بھی چاہے کہ وہ ملک وقوم کے مفاد میں اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

اسی بارے میں