مُردہ انسانوں کا گوشت کھانے پرگرفتاری

Image caption مردار کھانے والے بھکر میں گرفتار۔

پاکستان کے ضلع بھکر میں پولیس نے ایک شخص کو مردہ بچے کا گوشت کھانے کے الزام گرفتار کر لیا ہے۔

تھانہ صدر، دریا خان میں محرر ظفر نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد عارف اور فرمان علی کو سن دوہزار گیارہ میں بھی مردہ انسانوں کا گوشت کھانے کے جرم میں ایک سال قید کی سزا ہوچکی ہے۔ تھانہ دریا خان کے محرر کے مطابق اس مرتبہ ان کے گھر سے نو ماہ کے بچے کا سر ملا ہے۔

اس سے قبل دو ہزار گیارہ میں انھیں بھائیوں کو ایک مردہ لڑکی کو قبر سے نکال کر اس کا گوشت کھانے کےالزام میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ اس مرتبہ ان کے گھر سے نو ماہ کے بچے کا سر برآمد ہوا ہے۔

پولیس کے مطابق ان دونوں بھائیوں جن کی عمریں 35 سے 40 سال کے درمیان ہیں کے بارے میں ان کے رشتے داروں اور اہل علاقہ کی جانب سے شبہ ظاہر کیا گیا کہ وہ دوبارہ مُردوں کو قبروں سے نکال کر انھیں بطور خوراک کھا رہے ہیں، جس کے بعد پیر کی سہ پہر ایک بجے ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور ایک بھائی جس کا نام عارف ہے اُس کو حراست میں لے لیا گیا۔

تھانہ صدر کے محرر کے مطابق دونوں بھائیوں نے دو لاکھ جرمانہ ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے چھ ماہ کی اضافی قید کاٹی اور 18 مئی 2013 کو جیل سے رہائی پائی ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی اپنے گھر میں تنہا رہتے تھے والدین اور بیوی بچے انھیں پہلے ہی چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

تھانہ صدر، دریا خان نے بتایا کہ دونوں بھائیوں کے خلاف 295 اے، 297 ،201، 16 ایم پی او اور 7 اے ٹی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں