انتخابی مقدمات کے فیصلے نہ ہو سکے

Image caption مئی 2013 کے انتخابات سے متعلق اس وقت تقریباً دو سو حلقوں کے تناعزے اب بھی مختلف الیکشن ٹرائبیونل کے پاس ہیں۔

الکیشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق، مئی 2013 کے انتخابات سے متعلق اس وقت تقریباً دو سو حلقوں کی انتخابی عذداریاں اب بھی مختلف الیکشن ٹرائبیونل کے پاس ہیں، جبکہ قانون کے مطابق ان میں فیصلے چار ماہ کے اندر اندر دیے جانے چاہیے۔

الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق، صوبہ پنجاب میں 95، سندھ میں 47، خیبر پختونخوا میں 11 اور بلوچستان میں 46 درخواستوں پر فیصلے ابھی تک نہیں آئے۔ پاکستان بھر میں چودہ الیکشن ٹرائبیونل کام کر رہے ہیں جن میں سے تیراہ ریٹائرڈ سیشن یا ڈسٹرکٹ ججوں کے زیرِ صدارت ہیں۔

انتخابات کی نگرانی کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فیفن کے قانونی مشیر اکرم خرم کا کہنا ہے کہ اس بار ریٹائرڈ ججوں کو اسی لیے مقرر کیا گیا تھا تاکہ فیصلے جلد کیے جا سکیں۔

’یہ سب وہ ریٹائرڈ جج ہیں جو ہائی کورٹ کے لیے اہل تھے اور ان کے پاس سہولیات اور عملہ موجود ہے۔ ان کے پاس ان ٹرائبیونل کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے۔‘

تاخیر کی مزید وجوہات بتاتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ سب سے بڑی وجہ تو سماعتوں میں التوا ہے۔

’قانون کہتا ہے کہ ٹرائبیونل کی کسی بھی سماعت کے درمیان سات روز سے زیادہ کا وقفہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ہم نے دو ہزار سے زیادہ التوا کے کیس دیکھیں ہیں جن میں وقفہ سات روز سے زیادہ کا ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹرائبیونل کے عبوری فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی جاتی ہیں۔

’ہائی کورٹ میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ وہ رٹ پٹیشن کو کتنی مدت میں نمٹا لے۔ ہائی کورٹ اس ٹرائبیونل کی کارروائی کو معطل کر دیتی ہے اور غیر محدود مدت کے لیے معاملہ چلتا رہتا ہے۔‘

فیفن کے مطابق الیکشن ٹرائبیونلز کی 25 کارروائیوں پر پاکستان کے چاروں ہائی کورٹس کی جانب سے حکمِ امتنائی ہے۔

خیال رہے کہ انتخابات سے متعلق معاملات کے قانون پیپلز رپرزینٹیشن ایکٹ 1976 کے مطابق، ٹرائبیونل کے حتمی فیصلے کے اطلاع کے تیس روز کے اندر اندر فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جا سکتی ہے۔

اکرم خرم نے مزید کہا کہ صوبے خیبر پختونخوا میں ڈیرہ اسماعیل خان کی ٹرائبیونل نے تمام کیس نمٹا لیے تھے، تو مقررہ وقت کے اندر ان درخواستوں کو نمٹانا ممکن ضرور ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، صوبے خیبرپختونخوا میں 57 درخواستوں پر فیصلے آچکے ہیں جبکہ صرف گیارہ میں سماعت جاری ہے۔

’خیبر پختونخوا کے ٹرائبیونل میں بہت کم کیس تھے، اور وہاں کے ججوں کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے۔ ایبٹ آباد میں دو کیس چل رہے ہیں، جبکہ پشاور میں ڈی آئی خان کے جج سمیت دو جج اکھٹے درخواستوں کو دیکھ رہے ہیں۔‘

اکرم شیخ نے بتایا کہ کئی ایسی درخواستیں ہیں جن میں شناختی کارڈ کے قومی ادارے نادرا نے بیلٹ پیپر پر انگوٹھے کے نشانات کی تصدیق کرنی تھی۔

’سندھ میں خاص طور پر ایسے آٹھ کیس ہیں جن میں نادرا کے جواب کے انتظار میں کارروائیاں رکی ہوئی ہیں، جیسے کہ پاکستان مسلم لیگ کے سندھ کے صدر غوث علی شاہ کی درخواست جنہوں نے صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی نشست ہاری تھی۔‘

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے گذشتہ سال دسمبر میں انگوٹھے کے نشانات کے معاملوں پر سپریم کورٹ میں صوبہ پنجاب کے چار حلقوں پر درخواست دائر کی تھی۔ ان میں قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کا انتخاب ہے، جنہوں نے پی ٹی آئی کے سربراہ کو لاہور کے حلقے این اے 122 میں شکست دی، وزیرِ دفاع خواجہ آصف جنہوں نے سیالکوٹ کے حلقے این اے 110 میں پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار محمد عثمان ڈار کو شکست دی، ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق جنہوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما حامد خان کو این اے 125 میں ہرایا اور آزاد امید وار صادق بلوچ جنہوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کے جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین کو ملتان کے این اے 154 میں شکست دی تھی۔

یاد رہے کہ نادرا کے سابق سربراہ طارق ملک نے گذشتہ سال ستمبر میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے عمل کے آغاز کا اعلان کیا تھا، تاہم، انھوں نے حکومتی دباؤ کے تحت اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

پاکستان تحریکِِ انصاف کا الزام ہے کہ نادرا کے سابق سربراہ کو اسی معاملے کی وجہ سے فارغ کیا گیا تھا، جبکہ وزیرِ داخلہ ان اس بات کو رد کیا۔ اس کے بعد، وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی نے کہا کہ یہ کام الیکشن کمیشن کو سونپا گیا ہے۔

وکیل اکرم خرم نے تسلیم کیا کہ دیگر عام انتخابات کے مقابلے میں 2013 کے انتحابات کے بعد تنازعات کو حل کرنے کا عمل بہتر ہے، تاہم، الیکشن کمیشن ٹرائبیونلز کی کارروائیوں کی توقعات کے مطابق نگرانی نہیں کر رہا۔

’چاہے ہائی کورٹ میں سست رفتار ہو یا نادرا سے طلب کی گئی رپورٹس، ان کے لیے کوئی طریقہ کار تجویز کرنا چاہیے تاکہ تنازعات کو جلد حل کیا جائے۔ دوسرا، سماعتوں میں التوا پر فریقین سے ہرجانہ موصول کرنا چاہیے جو کئی ٹرائبیونل نہیں کرتے۔‘

الیکشن ٹرائبیونل کے فیصلے میں تاخیر کی وجہ جاننے کے لیے بی بی سی اردو نے الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا، تاہم، اس پر جواب نہیں ملا۔

اسی بارے میں