ساہیوال گینگ ریپ کے تمام ملزمان گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ضلعی پولیس افسر کے مطابق پانچ ملزموں کو پہلے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ پنچاب کے شہر ساہیوال میں پولیس نے ایک لڑکی سے اجتماعی زیادتی اور اس جرم کی ویڈیو بناکر تقسیم کرنے والے تمام چھ ملزمان کو راتوں رات گرفتار کر لیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ان ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کو 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی۔

ضلعی پولیس افسر سید خرم علی نے بی بی سی کو بتایا کہ پانچ ملزم پہلے سے گرفتار تھے جبکہ چھٹے ملزم صفدر علی کو منگل کی شام ننکانہ صاحب شیخوپورہ میں ان کے عزیز کے ڈیرے سے گرفتار کیا گیا ہے۔

اس مقدمے کی کارروائی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلائی جائے گی۔ انسداد دہشت گردی کے قانون کے مطابق اجتماعی زیادتی کی سزا موت ہے۔

یہ تمام ملزمان اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی 17 سالہ لڑکی ساہیوال کے ایک ہی نواحی گاؤں کے رہائشی ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق متاثرہ لڑکی کے والد سات آٹھ برس پہلے فوت ہو چکے ہیں اور امام مسجد نے بطور ہمدردی اس لڑکی کے گھرانے کو مسجد اور مدرسے سے منسلک اپنا گھر رہائش کے لیے دے رکھا تھا۔

تقریباً ایک مہینے سے لڑکی کے ساتھ زیادتی کی ویڈیو اس گاوں میں ایک موبائل فون سے دوسرے موبائل فون میں منتقل ہو رہی تھی۔ گذشتہ ہفتے اس ویڈیو کی خبر پاکستان کے مقامی چینلز سے نشر ہوگئی۔

خبر نشر ہونے تک پولیس نے کوئی کارروائی نہیں تھی۔ خبر نشر ہونے کے فوی بعد ضلعی پولیس افسر تھانہ فتح شیر پہنچے اور لڑکی اور اس کی والدہ کا بیان قلم بند کرنے کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا۔

ضلعی پولیس افسر کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد چار ملزمان پر متاثرہ لڑکی سےمبینہ اجتماعی زیادتی اوردو ملزموں پر اس جرم کی ویڈیو بنا کر پھیلانے کا الزام ہے۔

وزیراعلیٰ شہباز شریف منگل کی صبح خود ساہیوال کے اس نواحی گاؤں پہنچ گئے اور انھوں نے تاخیر سے کارروائی کرنے پر ڈی ایس پی سمیت چار اہلکاروں کو معطل کر دیا تھا جبکہ اعلیٰ پولیس افسروں کو تنبیہ کی تھی کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر تمام ملزم گرفتار نہ ہوئے تو باقی افسروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

ضلعی پولیس افسر کے مطابق پانچ ملزموں کو پہلے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا اور ملتان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے انہیں دس روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا تھا چھٹے ملزم کو ریمانڈ کے لیے جمعرات کو عدالت پیش کیا جائے گا۔

ڈی پی او ساہیوال کا کہناہے کہ یہ درست ہے کہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ ڈیڑھ ماہ پرانا ہے لیکن متاثرہ لڑکی نے اس بارے میں نہ تو اپنے اہلخانہ کو بتایا اور نہ ہی پولیس کو اطلاع کی تھی۔ پولیس کے علم میں آتے ہی فوری کارروائی کی گئی۔

ساہیوال کے ایک صحافی جاوید شوکت نے بتایا کہ انہوں نے خود یہ ویڈیو دیکھی ہے اور ویڈیو سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ لڑکی سے زبردستی کی گئی ہے اور اس ویڈیو کےمطابق وہ لڑکی ہاتھ جوڑ کر خدا رسول اور ملزموں کو ان کی بہنوں کا واسطہ دے کر چھوڑ دیے جانے کی التجائیں کرتی رہی۔

پولیس کی غیر حتمی اور ابتدائی تفتیش کے مطابق ایک ملزم طالب کی بہن اور متاثرہ لڑکی مدرسہ میں ایک ساتھ قرآن پاک پڑھتی تھیں اور طالب کو شک تھا کہ متاثرہ لڑکی اس کی بہن کے خط کسی غیر لڑکے تک لاتی لے جاتی ہے۔

پولیس کے بقول ملزم کے اکسانے پر اس کے دوست کامران نے متاثرہ لڑکی کو شادی کا جھانسہ دیا اور ملاقات کے بہانے ویران جگہ بلا کر چار ملزموں نے مبینہ طور پر اس سے زیادتی کی۔

دو ملزم اس موقع پر پہرہ دیتے اور ویڈیو بناتے رہے ان پر اس ویڈیو کو تقسیم کرنے کا الزام بھی ہے۔

اسی بارے میں