سینٹ کا اجلاس، ’قائدین کی ملاقات خوش آئند ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کی سینٹ یا ایوان بالا میں اکثر سیاسی جماعتوں نے سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں نواز شریف کی ملاقات کو ملک میں ایک مستحکم جمہوریت اور ایک مضبوط پارلیمنٹ کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

ڈپیٹی چیئرمین سینٹ صابر بلوچ کی صدارت میں بدھ کو ہونے والے اجلاس میں ’زیرو آوور‘ کے دوران پیپلز پارٹی کے سنیٹر فرحت اللہ بابر نے ایوان کو بتایا کہ سابق صدرآصف علی ذرداری اور وزیراعظم میاں نواز شریف نے ملک میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ چند سالوں سے بعض اداروں کی جانب سے پارلیمنٹ کے اختیارات اور دائرہ کار پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق ججوں کی تقرری کے بارے میں جو اختیارات پارلیمانی کمیٹی کو حاصل تھے اس سے مختلف طریقوں سے ختم کردیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اکاونٹس پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیے گئے، پارلیمنٹ نے سوالات پوچھے تو جوابات نہیں دیےگئے اور اس کے علاوہ منتخب پارلیمنٹ سے منظور شدہ قوانین کو مسترد کر دیاگیا اور یہاں تک کہ ایک منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیاگیا۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اب وقت آگیا کہ تمام سیاسی جماعتیں، منتخب حکومتیں اور حزب اختلاف مل بیٹھ کر ملک میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کے خلاف ہونے والی سازشوں کو مشترکہ طور پر ناکام بنادیں۔

پیپلزپارٹی کے سنیٹر نے تجویز پیش کی کہ سوموٹو کا اختیار اور عدالتوں میں قومی امور سے متعلق بعض دیگر زیر سماعت مقدمات پر اسمبلی کے اندر ایک خاص دائرہ کار کےتحت بحث کرنے کی اجازت ہونی چاہے کیونکہ آئین کا آرٹیکل آٹھاسٹھ بھی اس بات کی اجازت دیتا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سنیٹر شاہی سید نے سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں نواز شریف کے درمیان ملاقات کوخوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان دہشت گردی جیسے بڑے مسئلے سے دوچار ہے، اس لیے اس ملاقات میں تحفظ پاکستان آرڈننس، طالبان سے مذاکرات اور کئی دیگر اہم مسائل زیر غور آئے ہونگے۔

مبینہ طور پر سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی وجہ منتخب حکومت اور فوج کے درمیان آنے والے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے شاہی سید نے کہاکہ خواکوئی بھی شخص ہو، اگر وہ مجرم ہے تواس کے خلاف نہ صرف مقدمہ قائم ہو بلکہ سزا بھی ملنی چاہے لیکن کسی ادارے یا شخص کی ذاتی تذلیل نہیں ہونی چاہیے۔

وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمان نے نواز زرداری ملاقات کو ملک میں جمہوریت کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئےکہا کہ اس طرح کی ملاقاتوں سے سیاسی قائدین اور جماعتوں میں پائی جانے والی غلط فہمیاں کم اور قربت زیادہ ہو جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملکی مسائل پر دونوں کی ملاقات قوم کے لیے کسی نیک شگون سے کم نہیں ہے۔

ڈپٹی چیئرمین سینٹ صابر بلوچ نے سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں نوازشریف کی ملاقات کو ملک میں جمہوریت کے لیے ایک نئی روایت قرار دیا۔ بقول ان کے کہ ماضی میں سیاسی قائدین کے جائز اور ناجائر اختلافات سے ہمیشہ کسی اور نے فاہدہ اٹھایا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ملک کی موجودوہ صورتحال کے باعث یہ ملاقات دونوں قائدین کے لیے انتہائی لازمی تھی۔

سینٹ کا اجلاس جمعرات تک اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں