طالبان کا جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طالبان نے ایک ماہ قبل دہشت گردی کی کارروائیاں بند کرنے کا اعلان کیا تھا

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے 40 روز قبل کی جانے والی جنگ بندی میں مزید توسیع نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بدھ کو ذرائع ابلاغ کو جاری کیےگئے ایک بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کی شوریٰ نے متفقہ طور پر جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس بات کا بھی اعلان کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو جاری رکھا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ تنظیم پوری سنجیدگی کے ساتھ مذاکراتی عمل کو جاری رکھے گی اور حکومت کی طرف سے واضح پیش رفت سامنے آنے کی صورت میں تحریک طالبان پاکستان کوئی سنجیدہ قدم اٹھانے سے نہیں ہچکچائے گی۔

بیان میں دعویٰ کیاگیا کہ پیس زون ، غیرعسکری قیدیوں کی رہائی اور طالبان مخالف کارروائیاں روکنے کے مطالبات تعلقات میں فروغ اور اعتماد کی بحالی کے لیے ’معقول اور ٹھوس‘ تجاویز تھیں جن پر حکومت کی طرف سے کسی قسم کے غور کی زحمت نہیں کی گئی۔

شاہد اللہ شاہد کے بیان میں طالبان کے مختلف دھڑوں اور گروہوں کے لیے ’حلقوں‘ کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت کی طرف سے یک طرفہ جنگ بندی کےمطالبے پر اختلاف رائے کے باوجود تمام حلقوں کو اس کے لیے آمادہ کیا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حلقوں سے کیا صرف مختلف شدت پسند تنظیمیں ہی مراد ہیں یا اس سے مراد کوئی اور قوتیں بھی ہیں۔

ملک کے مختلف حصوں میں کی جانے والی شدت پسندوں کارروائیوں کے بارے میں بیان میں کہا گیا کہ ’اسلام اور ملک کے مفاد میں قوم کوایک ماہ کی جنگ بندی کا تحفہ دیا گیا۔‘

بیان میں حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت کی طرف سےتحریک طالبان پاکستان کے ’ابتدائی، مناسب اور جائز مطالبات‘ پر تا حال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اس بیان میں فوج کا لفظ کہیں استعمال نہیں کیا گیا لیکن کہا گیا کہ ’سیزفائر میں توسیع کی مدت کو چھ دن گزرنے کے باوجود حکومتی ایوانوں میں مذاکرات کے ضمن میں پراسرار خاموشی طاری ہے اور مجموعی صورت حال یہ واضح کر رہی ہے کہ طاقت کے اصل محور متحرک ہو چکے ہیں اور وہ اپنی مرضی کے فیصلے قوم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شہباز تاثر کو کئی برس قبل اغوا کیا گیا تھا اور خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں بھی کسی شدت پسند تنظیم نے یرغمال بنا رکھا ہے

واضح رہے کہ اس 40 روزہ جنگ بندی کے دوران ملک میں دہشت گردی کی کئی وارداتیں ہوئیں۔ حکومت کی طرف سے دو درجن کے قریب ’غیر عسکری‘ طالبان قیدیوں کو رہا بھی کیا گیا جبکہ طالبان کی طرف سے اغوا کیےگئے کسی شہری کو رہا نہیں کیا گیا۔

طالبان کے ترجمان نےملک میں دہشت گردی ختم کر کے امن بحال کرنے کے لیے شروع کیے جانے والے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا۔

بیان میں کہاگیا تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے 40 روزہ جنگ بندی کے تحفے کا جو جواب حکومت کی طرف سے دیاگیا اس کی مختصر صورت حال میڈیا کو پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ پاکستان کے باشعور مسلمانوں پر یہ واضح ہوجائے کہ مذاکراتی عمل میں پیش رفت نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے ۔

طالبان کے بیان میں اس تاثر کو بھی زائل کرنے کی کوشش کی کہ طالبان کی صفوں میں اتحاد کا فقدان ہے۔ انھوں نے کہا طالبان کی صفوں میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ حکومتی کیمپ میں فیصلوں کا اختیار کہیں اور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کو گذشتہ سال ملتان سے اغوا کر لیا گیا تھا

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں قبائلی علاقے وزیرستان میں طالبان کے دو دھڑوں میں مسلح تصادم میں متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔ اس بیان میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔

شاہد اللہ شاہد نے بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار عزیز اللہ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے طالبان کے اندرونی اختلافات کی خبروں کے بارے میں کہا کہ میڈیا نے ان اطلاعات کو ہوا دی۔ انھوں نے واضح کیا کہ ولی الرحمٰن گروپ کے ساتھ تمام اختلافات ختم ہو چکے ہیں اور اب وہ مکمل طور پر ان کے ساتھ ہیں۔

بیان میں انکشاف کیاگیا سیز فائر کے دوران حکومت کی طرف سے خاموشی کے ساتھ ’روٹ آؤٹ‘ کے نام سے طالبان کے خلاف آپریشن جاری رہا۔ تنظیم کے ترجمان نے حکومت کی طرف سے مبینہ طور پر طالبان کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیل کو مندرجہ ذیل پانچ نکات میں بیان کیا گیا۔

  1. 40 روزہ جنگ بندی کے دوران تحریک طالبان پاکستان کے نام پر گرفتار 50 سے زائد ساتھیوں کو شہید کر کے پھینکا گیا۔
  2. تحریک طالبان پاکستان سے تعلق کے الزام میں دو سو سے زیادہ بے گناہ لوگ ملک کے مختلف علاقوں میں گرفتار کیےگیے۔
  3. ۔ملک کے طول و عرض میں سو سے زیادہ چھاپے مارے گئے۔
  4. ۔ مختلف علاقوں میں پچیس سے زیادہ سرچ آپریشن کیے گئے۔
  5. ۔ ملک بھرکی جیلوں میں موجود قیدیوں پر(سوچے سمجھے منصوبے کے تحت) وحشیانہ تشدد کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔

شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان نے مذاکرات کی آڑ میں روٹ آؤٹ کے نام سے جاری آپریشن میں بھاری نقصان پر مکمل تحمل اور برداشت کامظاہرہ کیا جبکہ ساتھیوں کے اشتعال کو مکمل قابو میں رکھا اور اس پوری صورت حال سے مذاکراتی کمیٹی کو وقتا فوقتاً مطلع کیا اور ان پر واضح کیا کہ یہ مذاکراتی عمل کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ لیکن پیس زون اور غیرعسکری قیدیوں پر پیش رفت تو درکنار طالبان کے خلاف جاری کارروائیوں کو بھی روکنے میں حکو مت نےلمحے بھر کا توقف گوارا نہیں کیا۔