کابینہ کمیٹی میں طالبان سے مذاکرات پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اس اجلاس کے لیے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اور ڈی جی انٹیلی جنس بیورو بھی شرکت کریں گے

پاکستان کی وفاقی کابینہ کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں امن کی بحالی اور داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ راستے اختیار کرنے اور تمام وسائل بروئے کار لانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

قومی سلامتی کی کابینہ کمیٹی کا اہم اجلاس جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں اسلام آباد میں ہوا جس میں کابینہ کے وزرا کے علاوہ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی شرکت کی۔

کابینہ کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ اس خیال یا رائے کی توثیق کی گئی ہے کہ ملک کو تصادم کی صورت حال میں دھکیلنے کی بجائے عوام کی خوشحالی اور ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے مواقع کی طرف لے جایا جائے۔

یاد رہے کہ کابینہ کی قومی سلامتی کی کمیٹی کا اجلاس کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے 40 دن کے بعد جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کے اعلان کے پس منظر میں ہوا۔

تحریک طالبان نے بدھ کو جنگ بندی میں توسیع نہ اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے میں سنجیدہ ہیں۔

کابینہ کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں طالبان کی طرف سے جنگ میں توسیع نہ کرنے کے اعلان اور ان کی طرف سے مذاکرات جاری رکھنے کی بات کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ملک کی داخلی صورت حال کے بارے میں بریفنگ دی۔ جبکہ کمیٹی نے طالبان سے مذاکرات، بلوچستان اور مغربی سرحدوں کی صورت حال پر سیر حاصل بحث کی۔

اس اجلاس میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیرِ اطلاعات پرویز رشید، قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز، چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی، پاکستان کی بّری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ ان کے علاوہ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی بھی موجود تھے۔

اسی بارے میں