فیصل رضا عابدی سینیٹ اور پارٹی سے مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مستعفی ہو کر پی پی پی کا حق لوٹا دینا چاہتا ہوں: فیصل رضا عابدی

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سید فیصل رضا علی عابدی جماعت کی قیادت کی جانب سے استعفیٰ طلب کیے جانے کے بعد پارٹی اور سینیٹ کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

جمعرات کی شام کو سینیٹ کے اجلاس میں فیصل رضا عابدی نے اپنا استعفیٰ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ صابر بلوچ کو پیش کیا اور اعلان کیا کہ وہ ہمیشہ کے لیے سیاست چھوڑ رہے ہیں۔

مستعفی ہونے سے قبل پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کا یہ ہال اور سینیٹرز ان کے مقروض ہیں کیونکہ سابق چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف جو معاملہ سینیٹ میں اٹھایا تھا وہ ایک سال گزرنے کے باوجود ایوان بالا میں پیش نہیں ہو سکا۔

انھوں نے سوال کیا کہ ’جب سینیٹ اپنے ہی سینیٹر کو انصاف نہیں دے سکتی تو پھر یہ ڈرامہ کس لیے لگایا گیا ہے۔

فیصل رضا عابدی نے کہا کہ انہوں نے 17 مرتبہ احتجاج کیا لیکن بےسود رہا اور آج جب وہ ریٹائر ہونے جا رہے ہی تو وہ ’خود کو تاریخ کے گمراہ راہوں میں پھینکنے کی بجائے انصاف کے طلبگار‘ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جمہوریت تو جمہور کا نام ہے اور اسی ’جمہور نے مجھے انصاف کے لیے یہاں بھیجا جب ایک سینیٹر اپنے لیے انصاف حاصل نہیں کر سکتا تو پھر وہ کس مقصد کے لیے یہاں بیٹھ کر سوال جواب کرے‘۔

انہوں نے سابق چیف جسٹس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’چار سال تک بڑے بڑے سیاستدان اس فرعون سے معافیاں مانگتے تھے اور ان اس سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ کو بزور طاقت دبایا گیا۔‘

فیصل عابدی کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف ان کی درخواست کو یا تو غلط قرار دے کر انھیں سزا دی جائے یا پھر اسے صحیح تسلیم کیا جائے ’کیونکہ میں گمنامی کے کندھوں کی بجائے اس ایوان سے فتح یاب ہو کر جانا چاہتا ہوں۔‘

انھوں نے ایوان کو بتایا کہ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت نے منگل کو استعفی طلب کیا اور وہ سب سے پہلے مستعفی ہو کر پی پی پی کا حق لوٹا دینا چاہتا ہوں۔

مستعفی ہونے کے بعد جب فیصل رضا عابدی ایوان سے نکل رہے تھے تو صرف عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی عدیل سمیت بعص دیگر سینیٹروں نے تالیاں بجا کر انہیں رخصت کیا۔

اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین صابر بلوچ نے تعریفی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سب کوآفسوس ہے کہ آپ ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ ایک اچھے کارکن کی طرح آپ نے پارٹی قیادت کے کہنے پر استعفی دیا۔‘

یاد رہے کہ ڈپٹی چیئرمین صابر بلوچ کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے ہے۔ انہوں نے فیصل رضا عابدی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے اپنی پارٹی قیادت اور آپ جیسے کارکنوں پر فخر ہے۔‘

اسی بارے میں