وزیر اعظم ہاؤس میں قومی سلامتی پر اہم اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اس اجلاس کے لیے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اور ڈی جی انٹیلی جنس بیورو بھی شرکت کریں گے

وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی سربراہی میں قومی سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا۔

اس اجلاس میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیرِ اطلاعات پرویز رشید اور قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز شرکت کر رہے ہیں۔

کابینہ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کی سربراہی وزیراعظم کریں گے اور اس کے اراکین میں چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی، پاکستان کی بّری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان شامل ہیں۔

اس اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی بھی شریک ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ قومی سلامتی کیمٹی تمام ریاستی اداروں کو اظہارِ رائے کا موقع ملتا ہے۔

کابینہ کے کچھ ارکان کی طرف سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف دیے گئے بیانات کے بعد یہ پہلی مرتبہ سول اور فوجی قیادت اکٹھی بیٹھی ہیں۔

وزیر اعظم نے قومی سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اجلاس اس وقت طلب کیا تھا جب بدھ کو کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے 40 روز قبل کی جانے والی جنگ بندی میں مزید توسیع نہ کرنے کا اعلان کیا۔

تنظیم کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بیان میں کہا کہ تنظیم کی شوریٰ نے متفقہ طور پر جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس بات کا بھی اعلان کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو جاری رکھا جائے۔

بیان میں دعویٰ کیاگیا کہ پیس زون، غیر عسکری قیدیوں کی رہائی اور طالبان مخالف کارروائیاں روکنے کے مطالبات تعلقات میں فروغ اور اعتماد کی بحالی کے لیے ’معقول اور ٹھوس‘ تجاویز تھیں جن پر حکومت کی طرف سے کسی قسم کے غور کی زحمت نہیں کی گئی۔

یاد رہے کہ پچھلے ہفتے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس میں ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی تھی جن میں کہاگیا تھا کہ طالبان اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل پیدا ہوگیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل میں کوئی تعطل نہیں ہے۔

چوہدری نثار نے واضح کیا کہ فوج اور حکومت مل کر اس مذاکراتی عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں، دونوں کی رائے میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ملکی سلامتی پر دونوں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں اور جب بھی حکومت اور فوج کسی مسئلے پر متفق ہوتے ہیں تب جا کر وہ اس کا اعلان کرتے ہیں۔

دوسری جانب بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی کمیٹی کے رکن رستم شاہ مہمند نے اعتراف کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے معاملات میں تاخیر ہوئی ہے۔

اُنھوں نے زور دیا کہ حکومت کو جن معاملات پر عمل درآمد کرنا ہے، جلد سے جلد کرنا چاہیے تاکہ بات چیت کا عمل راستے پر آ سکے۔

اُنھوں نے توقع ظاہر کی کہ جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کرنے کے باوجود طالبان نے اپنے دروازے بند نہیں کیے اور مذاکرات کے آئندہ مرحلے میں دوبارہ جنگ بندی طے ہو جائے گی۔

اسی بارے میں