تھر: رینجرز اہلکاروں پر مقدمہ درج کرنے کا حکم

Image caption رینجرز نے ڈیوٹی میں رخنہ ڈالنے، مقابلے اور غیر قانونی شکار کا مقدمہ درج کرایا تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر کی ضلعی عدالت نے رینجرز کے انسپکٹر سمیت پانچ اہلکاروں کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

رینجرز اہلکاروں پر ایک نوجوان کو قتل اور ایک کو زخمی کرنے کا الزام ہے۔

سیشن جج مٹھی سید انعام الرحمان کی عدالت میں مقتول ناصر تالپور کے بہنوئی نور احمد نے ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دوران شکار رینجرز نے فائرنگ کر کے ناصر تالپور کو قتل کر دیا جبکہ محمد علی تالپور زخمی ہوگئے۔

ان کا موقف تھا کہ پولیس نے رینجرز کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

عدالت میں پولیس اور رینجرز اہلکار پیش ہوئے اور عدالت نے ایس ایچ او کھینسر پولیس سٹیشن کو حکم جاری کیا کہ انسپیکٹر عباس، اظہر حسین، کرامت حسین، محمد رزاق اور محمد خلیل کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کیا جائے۔

عدالت نے اس سے پہلے گرفتار سجاد تالپور، عادل تالپور اور حنیف راہموں کو ضمانت پر رہا کر دیا۔

رینجرز نے ان کے خلاف ڈیوٹی میں رخنہ ڈالنے، مقابلے اور غیر قانونی شکار کا مقدمہ درج کرایا تھا۔

کھینسر تھانے پر رینجرز کے انسپیکٹر عباس کی فریاد میں دائر مقدمے میں دعویٰ کیا ہے کہ سات اپریل کو رات تقریباً ڈیڑھ بجے نائیک کرامت حسین، لائنس نائیک مظہر حسین، محمد خلیل اور محمد رزاق کے ساتھ ہیڈ کوارٹر سے روانہ ہوئے تو اس دوران پبن گوٹھ کی طرف جاتے ہوئے ایک بغیر نمبر پلیٹ جیپ میں سوار کچھ لوگ سرچ لائٹس کی مدد سے ہرن کا شکار کر رہے تھے، قریب آنے پر انھوں نے ہم پر قاتلانہ حملے کی نیت سے فائرنگ کی جس پر ہم نے بھی جوابی فائرنگ کی۔

رینجرز کا موقف ہے کہ فائر جیپ کے پچھلے حصہ میں لگے اور بعد میں گھیراؤ کر کے گاڑی اور اس میں سوار لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔

حراست میں لیے جانے والوں میں محمد علی تالپور اور میر ناصر علی تالپور زخمی تھے جن کو علاج کے لیے چھاچھرو ہپستال منتقل کیا گیا جبکہ میر سجاد انور، محمد حنیف راہموں اور محمد عادل کو گاڑی سمیت کھینسر تھانے کے حوالے کر دیا گیا۔

سجاد تالپور اور عادل تالپور کا کہنا ہے کہ وہ شکار کر رہے تھے کہ رینجرز نے بغیر وارننگ کے فائرنگ کر دی۔ انھوں نے ہاتھ اوپر اٹھا لیے لیکن اس کے باوجود انھوں نے فائرنگ بند نہیں کی۔ ضمانت پر رہا ہونے والے ان نوجوانوں کا الزام ہے کہ رینجرز نے گرفتار کر کے ساری رات چیک پوسٹ پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ صحرائے تھر میں نایاب نسل کا ہرن پایا جاتا ہے، جس کے شکار پر سندھ کی حکومت نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔

محکمہ جنگلی حیات بڑے رقبے اور کم عملے کی وجہ سے اس غیر قانونی شکار کی نگرانی نہیں کرتا جبکہ رینجرز نے پر یہ ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔

اسی بارے میں