تین سو سال پرانی مسجد بحال

Image caption اس بات پر بہت خوش ہوں کہ یہ تاریخی مسجد کی اپنی اصلی حالت میں دوبارہ بحالی ہوگئی ہے: مسجد آنے والا ایک عبادت گزار

وادیِ سوات کے گاؤں سپل بانڈی میں تین سو سال پرانی ایک قدیم تاریخی مسجد کو انتہائی خوبصورت نقش و نگار اور تزئین و آرائش کے ساتھ اپنی اصلی حالت میں بحال کیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ مسجد پندرہ اور سولہ سو عیسوی کے درمیان اس وقت تعمیر ہوئی تھی جب یوسف زئی قبیلے نے اس علاقے پر حملہ کر کے قبضہ جما لیا تھا۔ شروع میں یہ مسجد ایک کمرے پر مشتمل تھی تاہم بعد کے مختلف ادوار میں اس کی توسیع کا کام جاری رہا اور اب اس مسجد میں سینکڑوں عبادت گزاروں کی گنجائش موجود ہے۔

اس مسجد میں نماز کے لیے آنے والے ایک مقامی شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس بات پر بہت خوش ہیں کہ یہ تاریخی مسجد اپنی اصلی حالت میں بحال ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد اس تاریخی مسجد کو دیکھنے کے لیے آتی ہے۔

سوات میں شورش کے دوران دہشت گرد حملوں سے نہ صرف یہاں کے باسیوں کو جانی اور مالی نقصان برداشت کرنا پڑا تھا بلکہ ملک اور صوبے کا تاریخی ورثہ سمجھے جانے والے قدیم مقامات بھی دہشت گردوں کا نشانہ بنے تھے۔

ایک اندازے کےمطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں دہشت گرد کارروائیوں اور بم حملوں کے باعث سو سال سے زیادہ پرانی کئی عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں، جب کہ وادی سوات میں شورش کے دوران بیشتر تاریخی عمارتیں، مساجد اور سکول بھی منہدم ہوئیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق اس مسجد کی سب سے خاص اور اہم بات اس کا پرانا فن تعمیر ہے۔ مسجد میں لکڑی پر کندہ کاری کا کام مہارت اور خوبصورتی سے کیاگیا ہے۔ دروازوں، محراب اور لکڑی سے بنے ستونوں پر روایتی نقش و نگار کندہ کیے گئے ہیں۔

گاؤں کے لوگ بتاتے ہیں کہ مسجد میں جس لکڑی پر کندہ کاری ہوئی ہیں، وہ تین سو سال پرانی ہے اور آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔

سوات تاریخی آثار کی وجہ سے مشہور ہے اور ثقافتی ورثے کی نمائندگی کرتا ہے۔ مبصرین کے مطابق پرانی اور تاریخی حیثیت کی حامل عمارتیں اور مقامات کسی بھی علاقے کی شناخت سمجھی جاتی ہیں۔

اس تاریخی مسجد کی بحالی ہالینڈ کے ایک ادارے پرنس کلاؤس فنڈ کے تعاون سے ہوئی ہے۔ بحالی کے اس کام پر 60 لاکھ روپے لاگت آئی ہے جس میں 20 لاکھ روپے مقامی لوگوں نے دیے جبکہ 40 لاکھ روپے تنظیم نے فراہم کیے۔

اسی بارے میں