بلوچستان: شورش کے تانے بانے

Image caption وی بی ایم پی کے مطابق لاپتہ بلوچ افراد کی تعداد 19,000 سے بھی زیادہ ہے

گذشتہ دو ہفتوں میں پاکستان میں دو جان لیوا حملے ہوئے جن کی ذمہ داری مبینہ طور پر بلوچ علحیدگی پسند تنظیم یونائیٹڈ بلوچ آرمی (یو بی اے) نے قبول کی ہے اور انہی دنوں قومی اسمبلی نے متنازعہ پروٹیکشن آف پاکستان آرڈیننس کی منظوری بھی دی ہے۔

منگل آٹھ اپریل کو بلوچستان میں سبی ریلوے سٹیشن پر راولپنڈی جانے والی مسافر ٹرین میں بم حملے نے سولہ جانیں لیں۔ اس کے اگلے ہی دن ہی اس سے بھی زیادہ خطرناک حملہ ملک کے دارالحکومت اسلام آباد کی سبزی منڈی میں ہوا جس میں 24 افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔

اگرچہ پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے یو بی اے کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کو مضحکہ خیز قرار دیا لیکن اس کے باوجود ان حملوں کے ذمہ داروں کے بارے میں کوئی بھی حتمی رائے قائم کرنا مشکل نظر آتا ہے۔

اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ یہ حملے بلوچستان کے ضلع قلات میں فوجی آپریشن کے فوراً بعد کیےگئے جہاں سات اپریل کو سیکورٹی فورسز نے تیس مبینہ بلوچ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا تھا۔

یا پھر شاید سبی اور اسلام آباد کے پرتشدد واقعات کے دو تین روز پہلے نیشنل اسمبلی سے متنازعہ پروٹیکشن آف پاکستان آرڈیننس کی منظوری نے بھی اس تاثر کو ہوا دی کہ حکومت بلوچ مزاحمت کاروں کے خلاف کوئی فیصلہ کن کاروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ بلوچستان میں چھوٹی بڑی علحیدگی پسند تحریکیں ہمیشہ سے پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے لیے دردِ سر رہی ہیں۔ سنہ 1949، 1958 اور 1973 میں تو ان تحریکوں نے باقاعدہ مسلح بغاوت کی شکل اختیار کر لی تھی۔

لیکن بلوچستان کے موجودہ حالات کی جڑیں ہمیں بلوچ رہنما اکبر خان بگٹی کی ہلاکت میں ملتی ہیں جنہیں لگ بھگ آٹھ سال قبل جنرل پرویز مشرف کے دور میں جیٹ طیاروں کی مدد سے قتل کیاگیا۔ ریاست کے اس انتہائی اقدام نے متعدد ایسے گروہوں کو بھی مسلح جدوجہد کی جانب دھکیل دیا جو اس سے پہلے محض بلوچستان کی ریاستی اور معاشی خود مختاری کے لیے کوشاں تھے۔

اس کا نتیجہ مختلف علاقوں میں سیکورٹی فورسز، گیس پائپ لائنوں، پنجاب جانے والی ٹرینوں، یہاں تک کہ زیارت میں ملک کے بانی کی رہائش گاہ جیسی قومی علامتوں پر حملوں کی صورت میں سامنے آیا۔

مسلح مزاحمت کاروں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں مشتبہ یا مبینہ عسکریت پسندوں کی پرتشدد اور ماورائے عدالت ہلاکتوں نے بلوچ علحیدگی پسند جدوجہد میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

اس سال جنوری سے مارچ کے تین مہینوں میں فرنٹیئر کور نے سرچ آپریشن یا مبینہ جوابی کارروائیوں میں 80 کے قریب مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان میں سے 30 صرف سات اپریل کی ایک کارروائی میں مارے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد کی سبزی منڈی کے دھماکے میں 24 افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے

نو اپریل کو لندن میں مقیم بلوچ قوم پرست رہنما حیربیار مری نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام لوگ جو قلات میں فوجی آپریشن کے دوران نشانہ بنے یا مارے گئے وہ علحیدگی پسند نہیں تھے اور اس آپریشن کے دوران عورتوں اور بچوں پر بھی تشدد کیا گیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سنہ 2013 کی سالانہ رپورٹ میں صاف کہا ہے کہ بلوچستان میں ماورائےعدالت قتل بغیر کسی روک ٹوک کے جاری ہیں۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ خود یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ریاستی ایجنسیاں بلوچ مزاحمت کاروں کی غیر قانونی حراست کی ذمہ دار ہیں۔

جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد کرنے والی تنظیم وائس آف بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے مطابق لاپتہ بلوچ افراد کی تعداد 19,000 سے بھی زیادہ ہے۔ پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری سمیت کئی سینیئر جج بھی بلوچستان میں سکیورٹی اداروں کو جبری گمشدگیوں کا ذمہ دار ٹھہرا چکے ہیں۔

لیکن حتمی طور پر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایسے لوگوں کی تعداد کتنی ہے۔گو کہ موجودہ وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ مہنیوں میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں کمی آئی ہے لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔

ایک عرصے سے جاری جبری گمشدگیوں کے دوران خضدار میں اجتماعی قبروں کے انکشاف نے بھی اس صورتحال میں جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ عام طور پر یہی سمجھا جا رہا ہے کہ یہاں سے ملنے والی لاشیں پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے بلوچوں کی ہیں۔

Image caption آپریشن کے دوران عورتوں اور بچوں پر بھی تشدد کیا گیا: حیربیار مری

ایسے میں پروٹیکشن آف پاکستان آرڈیننس (پی پی او) جیسے انتہائی متنازعہ قانون کی منظوری پہلے سے ہی کشیدہ صورتحال کو مذید بھڑکا سکتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پی پی او جبری گمشدگی کو قانونی جواز دے کر سیکورٹی فورسز کے جرائم پر پردہ ڈالتا ہے اور سیکورٹی فورسز کو کُھلی چھٹی دیتا ہے کہ کسی بھی ملزم کو بغیر کسی تفتیش کے تین ماہ تک حراست میں رکھا جا سکے۔ ایک مشتبہ دہشت گرد کے لیے یہ مدت چھ ماہ تک ہو سکتی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ بلوچستان کی جنگ میں انسانی حقوق کی پامالی دونوں جانب سے ہوئی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تحفظِ پاکستان کا نیا آرڈیننس اس شیطانی چکر کو روک پائےگا یہ اسے مذید ہوا دے گا؟

اسی بارے میں