اسلام آباد میں اسامہ بن لادن کے نام پر لائبریری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لائبریری کو ’مکتبۂ اسامہ بن لادن شہید‘ کا نام دیا گیا ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں خواتین کے ایک مدرسے کے لائبریری کا نام عالمی شدت پسند تنظیم القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے نام پر رکھ دیا گیا ہے۔

یہ لائبریری جامعۂ حفصہ میں واقع ہے اور اس مدرسے کا تعلق شہر کی معروف لال مسجد سے ہے جہاں 2007 میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

لائبریری کے دروازے پر لگائے گئے ایک پوسٹر پر اسامہ بن لادن کو ’شہید‘ قرار دیا گیا ہے۔ اسامہ بن لادن 2011 میں پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی كمانڈوز کی ایک کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق یہ لائبریری شہر کے مرکز میں واقع مدرسے کے کیمپس کا حصہ ہے جس میں تعمیراتی کام اب بھی جاری ہے۔

لائبریری کی دیوار پر چسپاں کاغذ میں اسے ’مکتبۂ اسامہ بن لادن شہید‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا ترجمہ انگریزی زبان میں بھی درج ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لائبریری میں فرشی نشست کا اہتمام ہے

نامہ نگار کے مطابق اس لائبریری میں فرشی نشست کا اہتمام ہے اور فرش پر ہی دو کمپیوٹرز بھی رکھے گئے ہیں۔

اس مدرسے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن ’ایک ہیرو‘ تھے اور لائبریری کا نیا نام انھیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کا طریقہ ہے۔

لال مسجد کے خطیب اور مبلغ مولوی عبدالعزیز لائبریری کو اپنے دفتری کام کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔

اس لائبریری میں دو ہزار کے قریب کتابیں موجود ہیں جو تمام اسلام کے بارے میں ہیں۔ ان میں شریعت، جہاد کے موضوعات پر کتب کے علاوہ قرآن کی اردو اور انگریزی زبان میں تفاسیر بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں