کراچی: فرقہ وارانہ تشدد میں دو افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اہل سنت و الجماعت کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک ماہ میں ان کے کارکنوں اور ہمدروں پر حملے میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد کے ایک اور واقعے میں دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

یہ واقعہ سخی حسن قبرستان کے قریب بس سٹاپ پر جمعے کو پیش آیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے بس سٹاپ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایثار اللہ قاسمی اور مسعود احمد ہلاک جب کہ ضیا الرحمان زخمی ہوگئے جنھیں عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

دوسری جانب اہل سنت و الجماعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے ان کے کارکن تھے۔

ترجمان کے مطابق مسعود احمد معمول کی سکیورٹی کے فرائض سر انجام دینے کے بعد اپنے گھر میانوالی کالونی جانے کے لیے بس سٹاپ کھڑے تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا جس میں ان کے دو ساتھی ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

اہل سنت و الجماعت کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک ماہ میں ان کے کارکنوں اور ہمدروں پر حملے میں اضافہ ہوا ہے۔

اس سے پہلے تنظیم کے مرکزی رہنما علامہ احمد لدھیانوی کی جھنگ سے قومی اسمبلی کے حلقے سے کامیابی کی خبر آئی تھی تو اسی روز فائرنگ کرکے دو کارکنوں کو ہلاک کیا گیا اور جمعے کو الیکشن کمیشن نے جیسے ہی علامہ لدھیانوی کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا دس منٹ کے بعد یہ حملہ کیا گیا۔

ترجمان نے الزام عائد کیا کہ ان ہلاکتوں میں پڑوسی ملک کا ہاتھ ملوث ہے جس کی تصدیق قانون نافذ کرنے والے ادارے خود کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ رواں ماہ مدرسے کے طالب علموں اور اساتذہ پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے جامعہ دارالاخیر کے تین طالب علم ہلاک ہوئے تھے جب کہ اس کے بعد دو وکلا اور ایک ڈاکٹر بھی فرقہ وارانہ تشدد کا شکار ہو چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں آئی جی سندھ پولیس اقبال محمود نے دعویٰ کیا تھا کہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ایک تیسری قوت ملوث ہے۔

آئی جی کا کہنا تھا کہ وہ ملزمان کے قریب پہنچ چکے ہیں اور انھیں جلد گرفتار کر لیا جائے لیکن تاحال کوئی گرفتاری سامنے نہیں آئی۔

اسی بارے میں