کمرہ عدالت میں تضحیک مذہب کے مقدمے میں وکلا کو دھمکیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جج صاحب نے مبینہ طور خاموشی اختیار کیے رکھی

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیش آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے ملتان کی سینٹرل جیل کے اندر کمرہ عدالت میں تضحیک مذہب کے ملزم کے وکیل کو دی جانے والی دھمکیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ جن افراد نے دھمکیاں دی تھیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائِے اور وکیل صفائی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کمیش نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ مقدمے میں وکیل کو دھمکیاں دینے والے تینوں افراد کے خلاف بلا تاخیر قانونی کارروائی کی جائے اور وکیل صفائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ سکیورٹی خدشات کی بنا پر تضحیک مذہب کے ملزم جنید حفیظ کے خلاف مقدمے میں سماعت ملتان سینٹرل جیل میں ہو رہی تھی۔

ملزم کے وکیل راشد رحمان اور اللہ داد مقدے کی سماعت کے دوران جج کے سامنے پیش ہوئے اور جب وہ ملزم کی بریت کے لیے دلائل دے رہے تو تین افراد نے جج کی موجودگی میں راشد رحمان ایڈوکیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’آپ اگلی مرتبہ عدالت نہیں آ سکیں گے کیونکہ آپ اب مزید زندہ نہیں سکیں گے۔‘

ایڈوکیٹ رحمان نے جج کو توجہ دھمکی کی جانب دلائی تاہم اطلاع کے مطابق جج صاحب نے مبینہ طور خاموشی اختیار کیے رکھی۔

ایچ آر سی پی نے کہا کہ تضحیک مذہب کے ملزم کو وکیل حاصل کرنے اور اس کی خدمات جاری رکھنے کے حوالے سے جو مشکلات درپیش ہوتی ہیں ان سے ہر فرد آگاہ ہے۔

ایچ آر سی پی کا خیال ہے کہ محض متعصب افراد کی ہی یہ خواہش ہو سکتی ہے کہ ملزم کو قانونی نمائندگی نہ ملے۔ انھوں نے کہا کہ کہ اگر یہ شرمناک کھیل جاری رہا تو ایچ آر سی پی یہ نتیجہ اخذ کرنے پو مجبور ہوگا کہ ملزم کو قانونی نمائندگی حاصل کرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور یہ کہ ٹرائل جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں