قطر سے گیس درآمد کرنے کی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے

وفاقی کابینہ نے قطر سے مائع قدرتی گیس درآمد کرنے کی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔

اس پالیسی کے تحت پاکستان قطر سے ابتدائی طور پر دو سو ملین مکعب فٹ روزانہ گیس درآمد کرے گاجو ایک سال میں بڑھ کر چار سو ملین مکعب فٹ روزانہ تک پہنچ جائے گی۔

کابینہ نے اس معاہدے کے لیے گیس نرخ کے سروسز چارجز کی بھی منظوری دی جو صفر اعشاریہ چھ چھ ڈالر (0.66) فی مکعب میٹر مقرر کی گئی ہے۔

بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری اعلان کے مطابق حکومت نے قطر سے مائع گیس درآمد کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔

یہ پالیسی اس سے پہلے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں بھی منظور ہو چکی ہے۔

پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی کے مطابق پالیسی کے تحت یہ گیس نومبر تک پاکستان کو ملنا شروع ہو جائے گی۔

گیس کے شعبے کے ماہر وہاج احمد کا کہنا ہے کہ نومبر تک اس گیس کی پاکستان آمد ممکن دکھائی نہیں دیتی۔

’پاکستان کے پاس اتنی گیس کو درآمد کرنے کے لیے ٹرمینل ہی نہیں ہے ایسے میں اس گیس کی درآمد اس سال شروع ہوتی نظر نہیں آتی۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت نے قطر سے جو گیس خریدنے کا معاہدہ کیا ہے اس میں گیس کے نرخ سولہ سے سترہ ڈالر رکھے گئے ہیں جبکہ عالمی منڈی میں اس سے کم نرخ پر گیس دستیاب ہو سکتی تھی۔

اس پالیسی کی تیاری کے دوران بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ اس درآمدی مائع گیس کو صنعت اور سی این جی سیکٹر میں گیس کی کمی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

یہ گیس پاکستان میں قدرتی گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ پاکستان قومی ضرورت کی نصف گیس پیدا کرتا ہے۔ سردیوں میں جب گیس کا استعمال عروج پر ہوتا ہے، ملک میں گیس کی طلب چار ارب مکعب فٹ روزانہ ہو جاتی ہے جبکہ اس سے نصف گیس دستیاب ہوتی ہے۔

اس کمی کو کسی حد تک پورا کرنے کے لیے حکومت نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمد کرنے کی پالیسی بنائی تھی اور اس مقصد کے لیے قطر کے ساتھ معاہدہ بھی کر لیا گیا تھا۔