غداری مقدمہ: اکرم شیخ کے خلاف درخواست مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پرویز مشرف کے وکلا کا موقف ہے کہ اکرم شیخ کی تعیناتی ضابطوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں کی گئی

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے اس مقدمے کے چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ کی تعیناتی کے خلاف درخواست مسترد کر دی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ درخواست قابلِ سماعت نہیں ہے۔

یہ درخواست پرویز مشرف کی وکلا ٹیم میں شامل انور منصور کی طرف سے دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اکرم شیخ کی تعیناتی ضابطوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں کی گئی۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ اکرم شیخ سپریم کورٹ کے اُس فیصلے میں درخواست گُزار تھے جس پر عدالت عظمٰی نے تین نومبر سنہ 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا تھا اس لیے چیف پراسیکیوٹر اُن کے موکل کے خلاف تعصبانہ رویہ رکھتے ہیں اور ایسے حالات میں چیف پراسیکیوٹر اس مقدمے میں عدالت کی معاونت نہیں کر سکتے۔

خصوصی عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ گذشتہ ماہ محفوظ کر لیا تھا اور جمعے کے روز خصوصی عدالت کے رجسٹرار عبدالغنی سومرو نے اس کا فیصلہ سُناتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ آئینی عدالت نہیں ہے اور نہ ہی اسے کسی بھی درخواست پر نظرثانی کا اختیار حاصل ہے۔

خصوصی عدالت کے رجسٹرار کا کہنا تھا کہ جس روز پرویز مشرف پر فرد جُرم عائد کی گئی تھی اُسی روز اُنھوں نے اپنے بیان میں عدالت اور اس مقدمے کے چیف پراسیکیوٹر پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

اس درخواست کے مسترد ہونے کے بعد پرویز مشرف کی وکلا ٹیم میں شامل احمد رضا قصوری نے ایک الگ درخواست عدالت میں دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ ختم کیا جائے۔

پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت 24 اپریل کو ہوگی جس میں استغاثہ کی طرف سے شہادتیں پیش کرنے کا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔ سابق صدر کو سیکیورٹی خدشات کی بنا پر وقتی طور پر عدالت میں پیشی سے استثنٰی دے رکھا ہے۔

اسی بارے میں