’توہینِ رسالت کے قوانین پر خاموشی ہی بہتر ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنید نے پانچویں جماعت سے لے کر ہر کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ایف اس سی میں اس نے یونیورسٹی میں نہ صرف پہلی پوزیشن حاصل کی بلکہ گذشتہ 35 برس کا ریکارڈ بھی توڑا: جنید کے والد

جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی اگرمعاشرہ مجرم قراد دے دے تو سوچئے کہ زندگی کیسی ہو گی۔ یہی جانے کے لیے ملتان گئی جہاں جنید کے والد حفیظ النصر نیو سینٹرل جیل ملتان کے بند کمرے میں اپنے بیٹے کے خلاف توہین رسالت کے مقدمے کی سماعت کے لیے جا رہے تھے۔

وہ پیشی کے موقع پر لوگوں کے سامنے اپنے بیٹے کا حال تو کیا اسے سلام بھی نہیں کر پاتے۔ وہ اتنا سہم چکے ہیں کہ توہینِ رسالت کے ملزم اپنے بیٹے سے بات کرنے میں انھیں ڈر لگتا ہے کہ کہ اسے یا باقی حاندان کو مزید تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔

سماعت شروع ہونے سے پہلے جب ملتان کی ضلعی کچری میں ان سے ملاقات ہوئی تو وہ بہت کم بات کر رہے تھے۔ میں ان کے بیٹے کے خلاف ہونے والے توہینِ رسالت کے مقدمے کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتی تھی مگر وہ کھل کر بات نہیں کر رہے تھے۔

اسلام آباد سے پوری رات سفر کرنے کے بعد صبح ان کے پاس پہنچی تھی۔ بلاآخر انھوں نے کہا ’پلیز آپ میرا انٹرویو عدالت میں نہ کریں یہ نہ ہو کہ کسی کو کوئی بات بری لگ جائے۔ چند دن پہلے میں کچہری میں اپنے بیٹے کے وکیل صاحب کا انتظار کر رہا تھا تو بڑا پریشان کن واقع پیش آیا۔ ایک وکیل صاحب مجھے دیکھ کر بولے کہ عدالت نے ان کے مقدمے کو کیوں لٹکایا ہوا ہے بس ایک ہی دفعہ پیٹ میں چھرا مار دو مقدمہ خود ہی ختم ہو جائے گا۔‘

ہم ان کے ساتھ ملتان میں واقع ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے دفتر چلےگئے۔

حفیظ النصر نے بتایا کہ انھیں اس مقدمے میں اپنے بیٹے کے دفاع کے لیے وکیل کرنے میں بھی چار ماہ لگے۔’میرا بیٹا بغیر وکیل کے عدالت میں پیش ہوتا رہا۔ چھ وکلا سے رابطہ کرنے کے بعد ایک وکیل آمادہ بھی ہوگئے مگر چند دن بعد ہی انھوں نے میرے بیٹے کی وکالت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر آخر کار ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ذریعے وکیل راشد رحمان سے رابطہ ہوا۔ مگر شکر ہے انھوں نے دھمکیاں ملنے کے باوجود بھی ہمارا ساتھ دیا۔‘

وہ اپنے علاقے راجن پور کی انتظامیہ کے تو شکر گزار ہیں مگر ملتان آتے ہی ان کی دشواریاں بڑھ جاتی ہیں۔

پاکستان جیسے میں معاشرے میں جہاں مذہبی سطح پر برداشت کم ہوتی جا رہی ہے وہاں نہ صرف انھیں جنید کا بلکہ اپنے مسلمان ہونے کا دفاع کرنا پڑ رہا ہے اور اس کیفیت سے پورا گھر گزر رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں جنید کی والدہ گزشتہ ایک برس سے گھر میں بند ہیں۔ ’جنید کی ماں نہ تو کسی شادی پر جاتی ہے اور نہ کسی وفات پر۔ ظاہر ہے ماں ہے بیٹے کا دفاع کرنا چاہتی ہے مگر ڈرتی ہے کہ تکلیفیں مزید نہ بڑھ جائیںْ۔‘

جنید بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں ایم فِل کا طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ ویزیٹینگ فیکیلٹی میں پڑھاتے بھی ہیں۔

ان کے دو بھائی ہیں ایک اسلام آباد میں سافٹ وئیر انجینیئر ہیں جب کہ دوسرے نے بی کام کیا ہوا ہے۔ والد کا پرینٹنگ پریس ہونے کے ساتھ ساتھ جج اور عمرے کے ویزے فراہم کرنے کا کاروبار بھی ہے۔

جنید کے والد کا دعویٰ ہے کہ یونیورسٹی میں انگلش ڈیپارٹمنٹ میں دو آسامیاں آئی تھیں جن میں سے ایک کے لیے جنید کا انتحاب انٹرویو اور امتحان کے بعد ہوا۔ غیرسرکاری طور پر یہ بات پھیل گئی اور کچھ ساتھیوں کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ اس لیے انھوں نے ایسے کیا۔

وہ کہنے لگے آپ گھر آئیں تو میں آپ کو اپنے بیٹے کا وہ گولڈ میڈل دکھاؤں گا جو اس نے ایف ایس سی میں حاصل کیا۔ وہ جنید کی تعلیم کے لیے جذبہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخر محسوس کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا ’جنید نے پانچویں جماعت سے لے کر ہر کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ایف اس سی میں اس نے یونیورسٹی میں نہ صرف پہلی پوزیشن حاصل کی بلکہ گذشتہ 35 برس کا ریکارڈ بھی توڑا۔‘

اتنے میں جنید کی پیشی کا وقت ہو گیا۔ اس کی پیشی بند کمرے میں نیو سینٹرل جیل ملتان میں ہوتی ہے۔ گرد اور دھوپ میں جیل کے باہر پیشی ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے کہ ایک صاحب میرے پاس آئے بولے یہ ذوالفقار علی صاحب ہیں جنید کے خلاف یہی مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

میں نے پہلے پوچھا تازہ کارروائی کیا ہوئی جس کے بارے میں انھوں نے بتایا ’ملزم کی یہ درخواست مسترد کر دی گی ہے کہ براہِ راست شہادتیں نہ ہونے کی صورت میں مقدمہ خارج کیا جائے۔ عدالت نے جنید کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور 24 اپریل کو پھر بلایا ہے۔

اس سوال پر کہ وکیل کو دھمکی دینے کے بعد یا سزا سے پہلے ہی ملزم کی سکیورٹی کے خدشات پیدا ہونے سے ٹرائل کی شفافیت پر تو کوئی فرق نہیں آئے گا تو ذوالفقار علی نے کہا ’ہم نے کسی کو کوئی دھمکی نہیں دی ، سماعت جیل کے اندر بند کمرے میں ہو رہی ہے۔ ہمیں دھمکی دینے کی کیا ضرورت ہے؟۔‘

ان سے پوچھا کہ جنید کے خلاف ثبوت کیا ہے تو انھوں نے کہا ’جو اس کا فیس بک پر اکاونٹ ہے وہی اس کے خلاف ثبوت ہے ہم نے اس کے پاس ورڈ کے ذریعے سارا مواد جمع کر لیا ہے، اس کی کاپیاں کر لی ہیں۔ایک تو ثبوت وہ خود ہے، دوسرا جن خواتین کو وہ پڑھاتا ہے وہ اس کے خلاف گواہی دیں گی کہ وہ کلاس میں توہین آمیز لیکچرز دیتا تھا۔‘

میں نے کہا توہینِ رسالت کی سزا تو موت ہے تو کیا جنید کو پھانسی دے دینی چاہیے تو وہ بولے ’میں ہی نہیں بلکہ ہر مسلمان یہی چاہتا ہے اور اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ بھی یہی چاہیں گی۔ جو مسلمان ہے وہ مانتا ہے کہ گستاخِ رسول کی سزا موت ہے اور جو اس کو نہیں مانتا وہ کافر ہے اور توہینِ رسالت کے مجرم کو مجرم نہ ماننے والا بھی توہینِ رسالت کا مرتکب ہوتا ہے۔‘

شاید اسی سوچ کی وجہ سے جنید کے والد کو وکیل ڈھونڈنے میں چار ماہ لگے۔ محسوس ہوا جیسے ریاست اور معاشرے دونوں نے ہی تسلیم کر لیا ہے کہ توہین رسالت کے قوانین پر اجتماعی خاموشی میں ہی عافیت ہے۔

ریاست کی کمزوری کے باعث ماشرے میں پھیلے ابہام کی وجہ سے مذہبی عدم برداشت کا یہ عالم ہے کہ توہین رسالت کے نام پر قتل کرنے والے زیر حراست ممتاز قادری کو مجرم کہنا بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں