جمہوریت کو مستحکم کیے بغیر ملک کا دفاع مؤثر نہیں ہو سکتا: نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاس آؤٹ ہونے والے سات کیڈٹس کا تعلق فلسطین اور بحرین سے تھا

پاکستان کے وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ جمہوریت کو مستحکم اور دہشت گردی کو ختم کیے بغیر ملک کا دفاع مؤثر نہیں بنایا جاسکتا۔

انھوں نے یہ بات سنیچر کو پاکستان ملٹری اکیڈیمی کاکول ایبٹ آباد میں 129ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ جمہوریت کو مستحکم اور دہشت گردی کو ختم کیے بغیر ملک کا دفاع مؤثر نہیں بنایا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔

اس سے پہلے کاکول پہنچنے پر بری فوج کے سربراہ راحیل شریف نے وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کا استقبال کیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیراطلاعات پرویز رشید نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

پاس آؤٹ ہونے والے سات کیڈٹس کا تعلق فلسطین اور بحرین سے تھا۔

نوازشریف نے کہا کہ قومی مقاصد حاصل کرنے کے لیے قوم فوج کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزیرِاعظم کی طرف سے کاکول کا دورہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حکومت اور فوج کے درمیان تناؤ کا تاثر ملتا ہے۔

کئی روز قبل وفاقی وزرا اور پھر فوج کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے تھے جس سے یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں موجودہ حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہو رہے ہیں۔

وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پارلیمان میں اور پھر ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اب کوئی فوجی آمر جمہوریت کی بساط لپیٹ کر اقتدار پر شب خون نہیں مار سکے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ پرویز مشرف اور کچھ فوجی جرنیلوں نے فوج کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔

خواجہ آصف نے کہا تھا کہ فوج کے ایک ادارے نے غداری کے مقدمے کے ملزم پرویز مشرف کو پناہ دے رکھی ہے۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران سابق فوجی صدر فوج کے زیر انتظام چلنے والے ادارے آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیر علاج رہے۔

وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ پارلیمان کی بالادستی سب اداروں سے زیادہ ہے اور تمام ادارے اس کو جواب دہ ہیں۔

اس بیان کے بعد فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے سات اپریل کو غازی بیس تربیلا میں پاکستان فوج کے سپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کے ہیڈکوارٹر کےدورے کے دوران کہا کہ تھا کہ پاکستانی فوج ملک کے تمام اداروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے لیکن پاکستان کی فوج اپنے وقار کا ’ہرحال میں‘ دفاع کرے گی۔

چیف آف آرمی سٹاف نے حالیہ دنوں میں’بعض عناصر کی طرف سے پاکستانی فوج پر غیر ضروری تنقید‘ پر افسروں اور جوانوں کے تحفظات کے بارے میں کہا کہ فوج اپنے ’وقار کا ہرحال میں تحفظ کرے گی۔‘

یاد رہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا تعلق بھی ایس ایس جی گروپ ہی سے تھا۔

آرمی چیف کے اس بیان کے بعد سیاسی اور فوجی حلقوں میں یہ تاثر دیا گیا کہ فوج اور حکومت کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ اس بات کی تصدیق وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے 13 اپریل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کی تھی۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آرمی چیف کی طرف سے دیے گئے بیان کے بعد وزیر اعظم اور جنرل راحیل شریف کے درمیان پہلی ملاقات قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہوئی۔

وزیر اعظم ہاؤس میں جس کمر ے میں یہ اجلاس ہو رہا تھا، وہاں پر موجود ایک سرکاری اہل کار کے مطابق اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے فوجی افسران اور وزیر دفاع نے آپس میں ملتے ہوئے اُس طرح گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا جس طرح قومی سلامتی کمیٹی کے گُذشتہ دو اجلاسوں کے دوران دیکھنے کو ملا تھا۔

اسی بارے میں