اے این پی کے مقتول رہنما کے گھر پر حملہ، تین افراد اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے

پاکستان کےصوبے خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں نامعلوم افراد نے عوامی نیشنل پارٹی کے مقتول رہنما کے حجرے پر دستی بموں سے حملہ کر کے تین افراد کو اغوا کر لیا۔

یہ واقعہ سنیچر کی رات پشاور کے مضافات میں بڈھ بیر کے قریب ماشو خیل کے علاقے میں پیش آیا۔

پولیس کے مطابق بڑی تعداد میں مسلح افراد نے عوامی نیشنل پارٹی کے مقتول رہنما میاں مشتاق کے حجرے پر دو دستی بم پھینکے جس سے حجرے کے کمروں کو نقصان پہنچا ۔

پولیس اہل کار نے بتایا کہ مسلح افراد میاں مشتاق کے تین رشتہ داروں کو اغوا کرکے ساتھ لے گئے ہیں۔ مغوی رشتہ داروں کے نام شبیر، فہد اور شکیل بتائے گئے ہیں۔

پولیس اہل کاروں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد واضح نہیں لیکن ایسی اطلاعات ہیں کہ 30 سے 40 مسلح افراد نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔ اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ تین ماہ پہلے اسی علاقے میں نامعلوم افراد نے اے اپن پی کے رہنما میاں مشتاق کو ان کے ڈرائیور اور ایک ساتھی سمیت فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ میاں مشتاق اے اپن پی کے نائب صدر اور ضلع پشاور کے صدر رہ چکے تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ارباب طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ میاں مشتاق کے حجرے پر حملہ تشدد کے ان واقعات کی ایک کڑی ہے جس میں ان کی جماعت کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

واضح رہے کہ عوامی نشینل پارٹی سابق دور میں حکمران جماعت رہی ہے اور گذشتہ پانچ سالوں میں جماعت کے قائدین کے مطابق ان کے 500 سے زائد کارکن اور رہنماوں کو تشدد کے مختلف واقعات میں ہلاک کیا گیا۔

اسی بارے میں