انا زدہ مردانہ قوت کی کمزوری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ معصوم سوال اٹھانے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ میڈیا آخر ویسے متحد کیوں نہیں جیسے ایوب خانی زنجیریں توڑنے کے لیے ہوگیا تھا

چونکہ سب کو اندر سے یقین ہے کہ ایسا نہیں ہوگا اس لیے یہ گلا پھاڑنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ آج شدید ضرورت ہے محمد علی شوکت علی جیسی دیوانگی، محمد علی جناح کی اصول پسندی اور الطاف حسین، احمد علی خان، عزیز صدیقی جیسے ایڈیٹروں اور نثار عثمانی جیسے حق گو اور ضیائی کوڑوں کا سامنا کرنے والے چار جگری صحافیوں کی، وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

یہ معصوم سوال اٹھانے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ میڈیا آخر ویسے متحد کیوں نہیں جیسے ایوب خانی زنجیریں توڑنے کے لیے ہوگیا تھا، جیسے ہر اخبار اور اس کے کارکنوں نے سنہ ستّر میں فسطائی ہتھکنڈوں کے خلاف کئی دن مشترکہ ہڑتال کی۔ اور وہ صحافی کدھر گئے جنھوں نے بھوک ہڑتالی احتجاج کے ایک سے ایک ریکارڈ قائم کیے، سر پھڑوائے اور جیلوں کو گھر سمجھ لیا اور پھر معافی نامے بھی داخل نہیں کیے۔ جانے وہ قلم کار زندہ ہیں بھی کہ نہیں جو علی الصبح کاغذ پہ روشنائی جھاڑنے کے بعد دوپہر کے لاٹھی زدہ جلوسوں میں نعرے لگاتے تھے۔

ہائے یہ بھولے سوال، وائے گفتار کے غازی یہ وظیفہ خوار قلم کا، چینل پٹی پر زندہ آج کے سیاست کار اور کالے گاگلز پہنے اجلی اجلی پیاری پیاری سی سول سوسائٹی۔

اف یہ نامعلوم قاتلوں کی اصطلاح کے موجد، ریٹنگ کی ہڈیاں بھنبوڑنے والے اشتہاری شکاری کہ جو کنسٹرکشن و پراپرٹی بزنس، سونے و سگریٹ و سکولی و ہسپتالی کاروبار، بسکٹ سازی و بیکری گیری، سٹاک ایکسچینج کی دلالی اور کاغذی و الیکٹرونی میڈیا کو ایک ہی لالچی لاٹھی سے ہانکنے، دیکھنے اور جینے کے عادی اور ہر ہم پیشہ حریف کاروباری کو اپنے ہی کسی خیالی خصم کی سوکن جانتے ہیں اور پھر اپنے ہی ضمیر اور ضمیر زدگان اہلِ قلم کو سور برابر سمجھتے ہیں اور صحافیوں اور صحافی نما مخلوق کو پیشہ ورانہ ذات پات کے ایک ہی شجرے میں پرو کر اپنے تئیں قومی و سماجی و اخلاقی فریضہ ادا فرماتے ہیں اور پھر نچلوں کو یہ ہدایت دیتے ہوئے براستہ مدینہ لندن و نیویارک روانہ ہوجاتے ہیں کہ آپ وی کھاؤ تے مینوں وی کھواؤ۔

اور ان سب سے بھی اوپر شیر کی کھال میں وہ مخنث ریاست کہ جس کی انا زدہ مردانہ قوت کمزور پر ہی ثابت ہونے کے لیے ہے کیونکہ غیرت کے معنی ہی بدل گئے۔ اور وہ حکومت جو اپنے اختیار سے اپنا ہی سر پھوڑنا بھی کوئی ضروری کام سمجھتی ہے اور انتظام و انصرام کے فلمی سیٹ کو اصل و ٹھوس ثابت کرنے پر تلی بیٹھی ہے اور ہر شام گفتگو کا کوٹھا سجانے والے گلا پھاڑ ٹوڈیوں کو اصلی باتصویر اور خاموش قلم سے ابلتا لہو رونے والوں کو ’نا وجود و ناکارہ و فارغ ‘ گردانتی ہے۔

یہ ماحول اور ایسا نظام کہ جس میں ہر کوئی اپنی کنپٹی پر اپنا ہی گھونسا مار کر چیخ رہا ہے کہ مجھے کس نے مارا۔ اس ماحول میں ایسا پیارا پیارا مطالبہ کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ بھائیو سب ایک ہوجائیں، دشمن کو پہچانیں اور پہچان کر لڑیں بھی اور پھر یوں لڑیں جیسا لڑنے کا حق ہے۔

تو کیا ان میں سے کسی نے بھی وائلڈ لائف کی وہ فلم کبھی نہیں دیکھی جس میں کوئی خونخوار شیرنی، کوئی بد ہئیت مگر مچھ، نوکیلے دانتوں والے مکروہ چار چھ لگڑ بگوں یا خون آشام جنگلی کتوں کا کوئی طائفہ ہزاروں جنگلی بھینسوں کے ریوڑ کے اردگرد گھومتا رہتا ہے اور سب سے کمزور بھینسے کونہایت مکاری سے ڈرا بھگا کر ہزاروں کے غول سے الگ کر لیتا ہے اور پھر اس کی گردن دانتوں میں دبا کر بھاگ نکلتا ہے۔ اور کچھ ہی فاصلے پر دیدہ دلیری سے خون سے لتھڑی اپنی زبان اپنے ہی نتھنوں پر پھیرتا ہوا بغیر ڈکار لیے ایک طرف کو چل پڑتا ہے اور ہزاروں جنگلی بھینسوں کا ساکت ریوڑ بے چارگی سے سارا منظر دیکھتا ہے اور خوف کے سبب گردنیں پلٹائے بغیر آگے بڑھ جاتا ہے۔ اور پھر کوئی خونخوار شیرنی ، بدہئیت مگر مچھ ، نوکیلے دانتوں والے مکروہ صورت لگڑ بگوں یا جنگلی کتوں کا خونی غول راہ میں منتظر ہوتا ہے اور خشک پیڑوں پر پنجے گاڑے منحوس گدھ کسی مسرت آمیز خیال میں مگن سارا منظر دیکھتے رہتے ہیں۔

تو کیا ہزاروں جنگلی بھینسوں کے غول میں اتنی سمجھ بھی نہیں ہوتی کہ وہ شکاری درندے کی طرف دوڑ پڑیں اور اسے اپنے کھروں سے کچلتے ہوئے گزر جائیں؟ یقیناً اتنی سمجھ ہوتی ہے مگر ایکا نہیں ہوتا۔ بھینسا ایک ہو کہ ایک لاکھ۔ اس کا دماغ ایکے کے لیے پروگرامڈ ہی نہیں۔ لیکن جب جب جبلی خوف کے دباؤ میں یہ بھینسے بے ساختہ مزاحمت کر بیٹھتے ہیں تو شکاری درندے اسی فلم میں دم دبا کر بھاگتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔

مگر انسان تو بھینسا نہیں ہے۔ تو کیا نفاق زدہ انسانوں میں جبلی خوف کے تحت عارضی ایکا ہوسکتا ہے؟ سنا ہے پہلے کبھی ہوجاتا تھا مگر نئے دماغوں میں شاید کمپنی کی طرف سے یہ پروگرام ہی فٹ نہیں ہے۔ اس کی جگہ قصائی کے آہنی ڈربے میں بند مرغیوں کا دماغی سافٹ ویئر نصب کردیا گیا ہے۔ یعنی ذبح ہونے سے پہلے پھڑپھڑاؤ تاکہ شانت ہو جاؤ۔

اسی بارے میں