حامد میر پر حملہ:’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حامد میر سنیچر کو کراچی میں ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔ وہ جیو نیوز پر ٹاک شو کے میزبان ہیں

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو کے صدر عمران اسلم نے کہا ہے کہ سینیئر صحافی حامد میر پر حملے میں آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کے الزامات کی نوعیت بہت سنگین ہے اور ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں گے۔

عمران اسلم نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نہ صرف حامد میر کے بھائی عامر میر نے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل ظہیرالاسلام پر حملے کا الزام لگایا ہے بلکہ حامد میر خود کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ خفیہ ایجنسیاں شاید ان کے موقف کی وجہ سے ان سے بدلہ لیں۔‘

انھوں نے کہا کہ آیا آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کا نام ایف آئی آر میں لکھا جائے گا یا نہیں اس کا فیصلہ حامد میر خود کریں گے۔

عمران اسلم کا آڈیو انٹرویو

حامد میر پر قاتلانہ حملہ: تحقیقات عدالتی کمیشن کرے گا

حامد میر پر حملے کے خلاف صحافیوں کا احتجاج

آئی ایس آئی پر الزام، فوج کا انکوائری کا مطالبہ

پاکستان فوج ایک بیان میں حامد میر پر قاتلانہ حملے میں آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کے الزامات کی سختی سے تردید کر چکی ہے اور کہا ہے کہ بغیر کسی ثبوت آئی ایس آئی یا اس کے سربراہ کو حملے کا ذمہ دار قرار دینا ’افسوسناک‘ اور ’گمراہ کن‘ ہے اور حملے کی تحقیقات کے لیے آزاد انکوائری کمیشن کا مطالبہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حامد میر اس وقت کراچی کے آغا خان ہپستال میں زیرعلاج ہیں اور ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے

دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف نے حامد میر پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات تین رکنی عدالتی کمیشن سے کرانے کا اعلان کیا ہے۔

جیوز نیوز کے صدر عمران اسلم نے مزید کہا کہ حامد میر نے بہت سی چیزوں پر سٹینڈ لیا تھا۔’چاہے وہ پرویز مشرف پر مقدمہ ہو، گمشدہ افراد ہوں، اور بنگلہ دیش میں جو کچھ ہوا، حامد میر ہمیشہ ان معالات پر اپنا نکتہ نظر بیان کرتے رہے ہیں اور وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے ہیں۔‘

’ہم حالت جنگ سے گذر رہے ہیں اور ایسے بھی لوگ اور گروہ ہیں جو اس ’ڈیپ سٹیٹ‘ کا حصہ ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ ہِٹ لسٹ تقسیم کرتے رہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ جہاں تک حامد میر پر قاتلانہ حملے کا تعلق ہے تو یہ ’نہایت ہی ٹارگٹڈ آپریشن تھا اور حامد میر کو باقاعدہ منصوبے کے تحت قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہماری یہی کوشش ہے کہ اس واردات کے پیچھے جو بھی ہے اسے سامنے لایا جائے۔‘

وزیراعظم کی جانب سے حملے کی عدالتی تحقیقات کے کمیشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم نے کمیشن قائم کیا ہے اور اب اس میں چیزیں باہر نکل کر آئیں گی اور اگر اس کی بھرپور طریقے سے تحقیقات کی جائیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے کمیشن کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت حامد میر ہیں اور ان کا ادارہ بھی ان کے ساتھ ہے۔ اس وقت ایک اچھا موقع ہے کہ ہم کھل کر کمیشن کے سامنے بات کریں اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کریں کہ خفیہ ایجنسیوں میں اس قسم کے عناصر ہیں تو انھیں کسی طرح سے بے نقاب اور ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے‘۔

Image caption ملک کے مختلف شہروں میں صحافیوں نے احتجاجی مظاہرے کیے

’اس وقت ہم آمریت اور سنسر شپ کے دور سے گزر چکے ہیں، ہم ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہر 24 دن بعد پاکستان میں ایک صحافی قتل ہو جاتا ہے، اس لیے اب اس بات کو کھل کر سامنے آنا چاہیے اور ’ہم پتہ کریں کہ ان سب کے پیچھے کون ہے اور کیا ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ آئے دن صحافیوں کو جو دھمکیاں ملتی رہتی ہیں اس سلسے میں ان کا ادارہ کیا کرتا ہے، اس پر عمران اسلم نے کہا ’ہم جتنا کر سکتے ہیں، وہ کرتے ہیں تاہم اس ملک کے حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ کسی بھی شخص کے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ سو فیصد محفوظ ہے۔صحافی اپنے کام کے دوران کبھی کبھی اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں کچھ لوگوں کو ان سے خطرہ ہو جاتا ہے۔‘

پہلے ہمیشہ انگلیاں نان سٹیٹ یا غیر ریاستی عناصر کی طرف اٹھائی جاتی تھیں لیکن اب حامد میر پر حملے کے بعد پہلی مرتبہ فوج کے ایک خفیہ ادارے اور اس کے سربراہ کا نام لیا جا رہا ہے، اس پر عمران اسلم نے کہا کہ ’ہم آہستہ آہستہ یہاں تک پہنچے ہیں اور ہم نے اس رکاوٹ کو پار کیا ہے۔ مقدس گائے والی بات کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی، جو ہم بھی کریں گے، اور میرے خیال میں غیر آئینی رویے کی نشاندہی اور اس پر تنقید بھی ہونی چاہیے۔‘

اسی بارے میں