پاکستانی میڈیا بمقابلہ پاکستانی میڈیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی صحافی حامد میر پر حملے کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاج کے لیے نکلے

سنیچر کو حامد میر پر قاتلانہ حملے کے فوراً بعد سوشل میڈیا اور پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر اس کی کوریج بہت مثبت رہی جہاں سوائے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے دوسرے تمام نمایاں یا دوسری زبان میں ’ریٹڈ‘ چینلوں نے مقابلہ بازی اور مسابقت کی بجائے خبر کی بنیاد پر اس واقعے کوریج کی۔

اتوار کو حملے کے دوسرے دن پاکستانی اخبارات کا جائزہ لینے پر پاکستانی میڈیا میں ’صف بندی‘ کا اندازہ ہوتا ہے۔

جہاں پاکستانی اخبارات نے صفحۂ اول پر حامد میر پر حملے کی اس خبر کو جگہ دی، وہیں پاکستان کے آٹھ بڑے اخباروں میں سے صرف ایک ’دی نیوز‘ نے اس پر اپنے اداریے کا تیسرا حصہ صرف کیا۔

پاکستان کے باقی تین بڑے انگریزی اور چار بڑے اردو اخباروں کے اداریے اس پر مکمل طور پر خاموش رہے۔ صرف روزنامہ پاکستان نے اس پر تبصرہ شائع کیا۔

سب سے زیادہ حیرت روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحے پر ہوتی ہے جس کے لیے حامد میر اپنا مشہور کالم ’قلم کمان‘ باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔

جنگ کے ادارتی صفحے پر الیکٹرانک عدسہ لے کر تلاش کرنے پر بھی حامد میر پر حملے کے بارے میں کوئی ادارتی رائے، کالم یا کوئی تبصرہ پڑھنے کو نہیں ملا۔

تاہم جنگ اخبار کے صفحۂ اول کے آدھے حصے پر اشتہارات جبکہ بقیہ آدھے حصے پر حامد میر پر حملے سے متعلق مختلف خبروں کو جگہ دی گئی۔

سب سے دلچسپ روزنامہ ایکسپریس اردو اور انگریزی کے پہلے صفحوں معاملہ ہے جن پر حامد میر پر حملے کی خبر کی بجائے مندرجہ ذیل سرخیاں ہیں۔

ایکسپریس اردو کی دوسری بڑی ہیڈلائن ہے: حامد میر قاتلانہ حملے میں زخمی ’جیو کا آئی ایس آئی کو ملوث کرنا گہری سازش ہے، سیاسی و عسکری ذارئع کا اظہارِ تشویش۔‘ انگریزی روزنامے ایکسپریس ٹریبیون پر اسی کا انگریزی ترجمہ نظر آتا ہے۔

اس اخبار میں کسی بھی جگہ حامد میر پر حملے کی خبر دوسری یا تیسری یا چوتھی سرخی کے طور پر نظر نہیں آتی، تاہم اردو اخبار کے صفحۂ اول کے نچلے حصے میں ڈاکٹر معید پیرزادہ اور بابر ستار کے ٹی وی پروگرام کے حوالے سے خبر دی گئی ہے کہ ’اینکر پر حملے میں تیسرا ہاتھ ملوث ہو سکتا ہے،‘ جبکہ ایک اور بیان کچھ یوں ہے: ’سینیئر صحافی پر حملے میں کسی کو ملوث کرنا جلد بازی ہے۔‘

روزنامہ ڈان کی ویب سائٹ پر بلاگ کے حصے میں اخبار کے میگزین ایڈیٹر ضرار کھوڑو نے ایک بلاگ تحریر کیا ہے جبکہ ایکسپریس ٹریبیون کی ویب سائٹ پر اس بارے میں خبریں دکھائی دیتی ہیں۔

یاد رہے کہ اس حملے کے کچھ گھنٹے گزرنے کے بعد حامد میر کے ادارے جیو نیوز اور ان کے بھائی عامر میر نے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا جس کے جواب میں فوج کے ترجمان نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔

تو کیا اس بنیاد پر پاکستانی میڈیا ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو چکا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی میڈیا پر حملوں میں گذشتہ کچھ عرصے میں اضافہ دیکھا گیا ہے

صحافی رضا رومی پر بھی کچھ عرصہ قبل لاہور میں اسی انداز میں حملہ ہوا تھا۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’کیا جیو کی انتظامیہ اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے گی جس کے نتیجے میں صحافیوں کے تحفظ کے مشن کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے؟ براہِ کرم مشرف مخالف مہم کے موڈ سے باہر نکلیں۔‘

رضا نے میڈیا پر جاری اندرونی بحث پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’حامد میر ہسپتال میں ہیں اور اس حملے کے ظالمانہ انداز کو اجاگر کرنے کی بجائے میڈیا کے درمیان جنگ ٹی وی سکرینوں پر لڑی جا رہی ہے۔ کیا یہ ہوش مندی ہے؟‘

اگر ٹوئٹر پر نظر ڈالیں تو ایسا لگتا ہے کہ بعض لوگ یہ ثابت کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ’حامد میر نے اپنے اوپر حملے کا ڈرامہ کیا ہے اور اپنے اوپر گولی چلوائی یا چلائی ہے۔‘

بعض مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر صحافی خود ہی گولی چلوائے گا اور اس کے ساتھی ہی یہ بات کریں گے اور اس خبر کو چھپانے کی کوشش کریں تو پھر صحافیوں کے تحفظ کی باتیں محض باتیں اور حالات کے بدلنے کی امید محض امید ہے۔

اسی نکتے پر ایکسپریس ٹریبیون ہی کے مدیر ایم ضیاءالدین نے گذشتہ روز کہا تھا کہ ہمارے ہاں صحافیوں میں اتحاد کے فقدان کی وجہ ہے کہ صحافیوں کو چُن چُن کر مارا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں