صحافیوں پر حملے، ذمہ دار ابہام

Image caption قبائلی صحافی حیات اللہ کی ہلاکت کے وقت بھی ان کے اہل خانہ نے فوج کا نام لیا تھا

ایک اچھے غیر جانبدار اور منہ پھٹ صحافی کا ہر کوئی دشمن ہوتا ہے۔ پاکستان میں صحافیوں کے لیے جب سے زمین تنگ ہوئی ہے اس وقت سے اس کا ذمہ دار کبھی حکومت، کبھی فوج اور کبھی شدت پسندوں کو قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں انھیں بار بار باآسانی ہلاک کیا جا رہا ہے تو اس کا بڑا ذمہ دار ہے ’ابہام۔‘

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے جن ایک دو صحافیوں کو خیبرپختونخوا میں ہلاک کیا تو اس کا برملا اعتراف کیا۔ لیکن باقی اسّی فیصد ہلاکتوں کے پیچھے کون تھا آج تک واضح نہیں ہوسکا ہے اور یہی ابہام ہے جو ان کے بار بار نشانہ بنے میں مدد دیتا ہے۔

جب تک اس ابہام کو دور نہیں کیا جاتا اور ملزمان کو بےنقاب نہیں کیا جاتا یہ سلسلہ جاری رہنے کا قوی امکان ہے۔ فوج اور طالبان دونوں نے حامد میر کے واقعے میں ملوث ہونے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ ’ابہام‘ اعلیٰ ترین سطح کو پہنچ چکا ہے۔

فوج اور طالبان دونوں کو حامد میر جیسے صحافی ایک نظر نہیں بھاتے، لیکن اگر کوئی ’تیسرا‘ ہاتھ ہے تو اسے بھی بےنقاب کرنے کی ذمےداری کس کی ہے؟ حکومت کی، تحقیقاتی اداروں کی یا خفیہ اداروں کی؟ اگر یہ سب ایسا کرنے میں ناکام ہیں تو پھر اس ناکامی کی ذمہ داری ان سب کو آپس میں بانٹنا ہوگی۔

قبائلی صحافی حیات اللہ کی ہلاکت کے وقت بھی ان کے اہل خانہ نے فوج کا نام لیا تھا، لیکن قاتل آج تک پکڑے نہیں جا سکے، الٹا ان کی اہلیہ ہی اپنی جان سے گئیں۔ سوات کے موسٰی خیل اور اسلام آباد کے سلیم شہزاد کی بابت بھی سرکاری اداروں کے نام آئے۔ لیکن نہ تو قاتل ہاتھ آئے اور نہ ہی ان کے بارے میں ابہام ختم ہوا۔

اس ابہام کو اپنی انتہا تک پہنچانے میں اور کسی نے نہیں ہمارے پیشے کے لوگوں نے بھی خوب نمک مرچ لگا کر مدد کی ہے۔

حامد میر کا ہی واقعہ لے لیں۔ لوگ عجیب احمقانہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایک آدھ تصویر میں گاڑی میں خون کیوں نہیں دکھائی دے رہا ہے؟ انھیں جسم کے اوپری حصوں پر کیوں گولیاں نہیں لگیں؟

ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی پاکستان میڈیا واضح طور پر دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔ مذمت تو سب کر رہے ہیں، لیکن ایک حصہ حامد میر کی حمایت میں اور دوسرا اس کے خلاف ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کر رہا ہے۔

حامد میر کے بھائی عامر میر نے شاید جذبات میں آ کر بیان دے دیا لیکن شاید اس سے زیادہ نقصان اس کا جیو کی جانب سے دی جانے والی ٹریٹمنٹ سے ہوا۔ اسے محض تنقید تک رکھا جاتا تو بہتر تھا نہ کہ بطور الزام کے۔

محض تنقید سے اگر کسی کا وقار اور معیار متاثر ہونا ہوتا تو آج اس ملک میں کچھ بھی نہ بچ پاتا۔ محمد علی جناح اور علامہ اقبال تک پر حملے ہو رہے ہیں یا حملوں کا خدشہ ہے۔ لیکن جو بات سب سے زیادہ حیران کن ہے وہ ہے کہ آئی ایس آئی کے خلاف بھارتی میڈیا میں چرچے پر یہاں لوگوں کو تکلیف۔ وہ لوگ یہ بات بھول رہے ہیں کہ یہ الزامات تو ساری دنیا کے میڈیا نے شائع اور نشر کیے ہیں۔

اگر کوئی آپ پر تنقید کر رہا ہے تو شاید اس کا مقصد اپنا سمجھ کر آپ سے ان کی توقعات پر پورا نہ اترنے پر شکایت ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستانی صحافی کچھ زیادہ مطمئن نہیں ہے۔ معلوم کرنا چاہیے ایسا کیا ہے جو ہر دوسرے صحافی کے قتل میں ریاستی اداروں کا نام لیا جاتا ہے؟ اگر میڈیا اور ریاستی اداروں کے درمیان خوش گوار تعلقات مقصود ہیں ان شکوک و شبہات کو ہمیشہ کے لیے دور ہونا چاہیے۔ یہاں بھی اس ابہام کا خاتمہ ضروری ہے۔

اسی بارے میں