حامد میر پر حملہ: رپورٹ منظرِعام پر لانے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سینیٹ نے صحافیوں اور میڈیا ہاوسز کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پیش کی جانے والی قرار داد کو منظور کر لیا۔

پاکستان کے ایوانِ بالا سینیٹ نے حکومت سے حامد میر پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اس کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سینیٹ کی اکثریت نے واقعے کا الزام آئی ایس آئی یا کسی اور ملکی ادارے پر لگانے سے گریز کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

سینٹ کا اجلاس پیرکی شام جب ڈپٹی چیرمین سینٹ صابر بلوچ کی صدارت میں شروع ہوا توصحافیوں نے حامد میر پر سنیچر کو کراچی میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے خلاف پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔

اس موقعے پر قائدِ ایوان راجہ ظفرالحق اورحزبِ اختلاف کے سنیٹر اعتزاز احسن نے پریس روم جا کر صحافیوں کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت اور حزب اختلاف سینیٹ میں ایک کمیٹی تشکیل دے رہی ہے جو صحافیوں کے تحفظ اور دیگر مسائل کے لیے قانون سازی کرے گی۔

اس یقین دہانی پر صحافیوں نے جب اپنا احتجاج ختم کیا توصابر بلوچ نےصحافیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئےسینٹ کی دیگر کارروائی ملتوی کرتے ہوئے آج کا دن حامد میر پر ہونے والے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر بحث کرنے کے لیے مخصوص کر دیا۔

جب قائدِ ایوان راجہ ظفرالحق نے ایوان میں آ کر اعلان کیا کہ قائدِ حزب اختلاف میاں رضاربانی کی قیادت میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس پر جمعیت علماء اسلام (ف) کے سنییٹر حافظ احمد اللہ اور مولانا غفور حیدری نے شدید احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ صابر بلوچ کا تعلق چونکہ پیپلز پارٹی سے ہے اور ایوان میں بھی ان کو صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نظر آتی ہے۔

انھوں نے مذکورہ کمیٹی میں دیگر جماعتوں کو نمائندگی نہ ملنے پر ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

ممتاز قانون دان اعتزاز احسن نےحامد میر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کافی عرصے سے پاکستان میں صحافیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن حکومت انھیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

اعتزاظ احسن نے کہا میڈیا کے بعض اداروں کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری براہ راست آئی ایس آئی پر ڈالی جا رہی ہے جو کہ غلط ہے اور جب تک جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ نہیں آتی اس وقت تک کسی شخص یا ادارے کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ ماضی میں اس طرح کے حملے ہوئے لیکن اس کی تحقیقات نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی کمیشن کی رپورٹ آج تک سامنے نہیں آئی۔

انھوں نے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کی رپورٹ کو عوام کے سامنے لانے کامطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ جب تک صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوئی واضع قانون نہیں بنتا اس وقت تک اس طرح کے حملوں کو روکنا مشکل کام ہے۔

مسلم لیگ ق کےسینیٹر مشاہد حسین سید نے حامد میر پر قاتلانہ حملے کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں بھی سب سے پہلے ڈی جی آئی ایس آئی کو مورد الزام ٹھہرایاگیا لیکن غیرجانبدار تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ بلکل مختلف تھی۔ اس وجہ سے وقت سے پہلے ملٹری انٹیلیجنس یا آئی ایس آئی پر الزامات لگانا ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔

اس کے بعد مسلم لیگ ن کی خاتون سینیٹر سحر کامران نے ایک قرارداد پیش کی جس میں صحافیوں اور میڈیا ہاوسز کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کرنے کامطالبہ کیا گیا جسے ایوان نے منظور کر لیا۔

اسی بارے میں