بلوچستان: بم دھماکوں میں پولیس افسر سمیت 7 زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ژوب میں بھی ژوب میر علی خیل روڈ پر بھی ایک دھماکے میں دو بچے زخمی ہوئے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں منگل کے روز ہونے والے بم دھماکوں کے واقعات میں پولیس کے ایک افسر سمیت کم از کم سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ضلع نصیر آباد کی تحصیل چھتر پولیس سرکل کے ڈی ایس پی سمیت دو اہلکار وں کے زخمی ہونے کا واقعہ ضلع کے علاقے پیر و پل میں پیش آیا۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے پیرو پل کے علاقے میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔یہ مواد اس وقت زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جب ڈی ایس پی عبد الغفار سیلاچی وہاں سے پولیس کی موبائل گاڑی میں جا رہے تھے۔

دھماکے میں ڈی ایس پی شدید زخمی ہوگئے جبکہ ان کے ساتھ گاڑی میں سوار ایک اور اہلکار بھی زخمی ہوا۔دھماکے کے باعث گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

اس دھماکے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچ ریپبلیکن آرمی نے قبول کی ہے۔

تنظیم کے ترجمان نے نامعلوم مقام سے سیٹلائیٹ فون پر بتایا کہ اس دھماکے کا ہدف ڈی ایس پی تھے۔

دوسر بڑا دھماکہ بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں ہوا۔

پولیس کے ایک اہلکار نے فون پر بتایا کہ نامعلوم افراد نے ایک موٹر سائیکل پر دھماکہ خیز مواد نصب کرکے اسے مال روڈ پر ایک نجی بینک کے سامنے کھڑا کیا تھا۔

دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے کم از کم چار افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ اس دھماکے کا بظاہر ہدف فرنٹیئر کور کی ایک گاڑی تھی۔

آج یعنی منگل کو ژوب میں بھی ژوب میر علی خیل روڈ پر ایک اور دھماکے میں دو بچے زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر کراچی سے متصل بلوچستان کے علاقے حب میں گزشتہ شب ایک وائن شاپ کے قریب دھماکے میں شاپ کا مالک زخمی ہوا۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز عسکریت پسندوں کے نشانے پر ہیں۔

سنیچر کو بھی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں تشدد کے مختلف واقعات میں پولیس کے ایک اے ایس آئی سمیت پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں