پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں پھر مفاہمت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سنہ 1988 میں بھی ایک دوسرے کی اتحادی جماعتیں رہی ہیں مگر ان کا اتحاد ایک سال بھی نہیں چل سکا تھا

پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں 18 ماہ کی دوریوں کے بعد دوبارہ مفاہمت ہوگئی ہے جس کے بعد متحدہ نے ایک بار پھر حکومت میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

کراچی میں گورنر ہاوس میں متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹر صغیر احمد اور رؤف صدیقی نے بطور وزیر حلف اٹھایا۔

تقریب حلف برداری میں گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کے ہمراہ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ بھی موجود تھے۔

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ ’اس وقت جب ملک اندرونی اور بیرونی سازشوں میں گھرا ہوا ہے، یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم جیسے وفاقی حکومت کی مدد کرکے جمہوریت کو مضبوط کر رہے ہیں، اسی طرح سندھ میں بھی جمہوریت کو مضبوط کیا جائے۔‘

اس سے پہلے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے شعبۂ اطلاعات کے سربراہ واسع جلیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ حکومت میں شمولیت کا فیصلہ ہوچکا ہے تاہم وزرا کب حلف اٹھائیں گے اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

گورنر ہاؤس کے ترجمان کے حوالے سے کئی نیوز چینلز کئی گھنٹے یہ ٹکرز نشر کرتے رہے کہ فیصل سبزواری، رؤف صدیقی، ڈاکٹر صغیر احمد اور عادل صدیقی حلف لیں گے، تاہم گورنر ہاؤس کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم، پاکستان پیپلز پارٹی کی گذشتہ حکومت میں بھی وفاقی اور صوبائی حکومت میں شامل رہی تاہم گذشتہ برس مئی میں ہونے والے انتخابات سے تقریباً چھ ماہ پہلے انھوں نے اپنی راہیں الگ کر لیں۔

دونوں جماعتوں کے درمیان کئی بار کشیدگی اور تین مرتبہ علیحدگی ہو چکی ہے اور آخری بار متحدہ نے جون میں اس وقت حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جب پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں انتخابات کے موقع پر اختلافات سامنے آئے تھے۔

انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شامل کرنے کی کوشش جاری رہیں جس کے لیے سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک سرگرم رہے۔

کراچی میں بلاؤل ہاؤس، گورنر ہاؤس اور دبئی میں مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد آخر کار ایم کیو ایم نے دوبارہ سرکاری بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کرلیا۔

سندھ میں یہ سیاسی پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے اور ایم کیو ایم یہ شکایت کر رہی ہے کہ اس آپریشن میں اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کی 51، مسلم لیگ فنکنشل کی 11، مسلم لیگ نوان کی 10 اور تحریک انصاف کی چار نشستیں ہیں۔ اس طرح اپوزیشن اب پچیس اراکین پر مشتمل ہوگی اور پیپلز پارٹی کو کسی بڑی مخالفت اور مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

ماضی کی ناراضگیاں

ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کے گذشتہ دورِ حکومت میں سندھ اور وفاق میں اتحادی تھی تاہم پانچ سالہ دورِ اقتدار کے دوران ایم کیو ایم نے متعدد بار حکومتی اتحاد سے الگ ہوئی اور بعد میں دوبارہ اتحاد کا حصہ بنی۔

دونوں جماعتوں کے درمیان کئی بار کشیدگی اور تین مرتبہ علیحدگی ہو چکی ہے اور آخری بار متحدہ نے جون میں اس وقت حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جب پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں انتخابات کے موقع پر اختلافات سامنے آئے تھے۔

اس کے بعد سندھ میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اور آصف علی زردای کے انتہائی قریبی دوست ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی متحدہ مخالف شعلہ بیانی بھی کئی بار کشیدگی کی وجہ بنتی رہی۔

پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سنہ 1988 میں بھی ایک دوسرے کی اتحادی جماعتیں رہی ہیں مگر ان کا اتحاد ایک سال بھی نہیں چل سکا تھا۔

اسی بارے میں