امن مذاکرات:شکایات کے جائزے کے لیے ایک نئی کمیٹی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکومت اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو، طالبان کے مطالبات تسلیم کرے: سمیع الحق

حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے ارکان نے فریقین کی شکایات کا جائزہ لینے اور اس کے ازالے کی کوششوں کے لیے ایک سب کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔

ان دونوں کمیٹیوں کا اجلاس بدھ کو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی سربراہی میں پنجاب ہاؤس میں ہوا۔

طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں حکومت سب کمیٹی کو ہیلی کاپٹر سمیت دیگر تمام سہولیات فراہم کرے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ طالبان کو شکایت ہے کہ جنگ بندی کے دوران بھی اُن کے ساتھیوں کو اغوا کیا گیا اور ساتھ ساتھ اُن کے ساتھیوں کی لاشیں بھی ملی ہیں۔

سمیع الحق نے کہا کہ ان کی کمیٹی کی کوشش ہوگی کہ حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات آئندہ چند روز میں ہوں اور ضمن میں جلد ہی مقام کا تعین کر لیا جائے گا۔

انھوں نے بدھ کو ہونے والی ملاقات سے قبل حکومت سے کہا تھا کہ وہ اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو، طالبان کے مطالبات تسلیم کرے۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ اگرچہ طالبان کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود ابھی تک کوئی ایسا بڑا واقعہ پیش نہیں آیا جو حکومت کے لیے پریشانی کا باعث ہو۔

طالبان کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا ایسے حالات میں حکومت نے بھی دانش مندی کا ثبوت دیا ہے اور فائر بندی ختم ہونے کے باوجود بھی صبروتحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے 40 دن کے بعد جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

تحریک طالبان نے جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے میں سنجیدہ ہیں۔ تاہم وزیر داخلہ نے جنگ بندی کی توسیع نہ کیے جانے کے بعد اپنے بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کے بغیر بامقصد مذاکرات کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔

مولانا سمیع الحق کے مطابق اجلاس میں دونوں کمیٹیوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ طالبان کی طرف سے فائربندی میں توسیع کی جائے اور اعتماد سازی سے متعلق بھی اقدامات کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں جانب سے غیر عسکری قیدیوں کی رہائی کے لیے مزید اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

اس سے قبل حکومتی اور طالبان کی کمیٹی کے اجلاس میں سیکریٹری داخلہ نے طالبان کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کے اعلان کے بعد ملک بھر میں ہونے والے شدت پسندی کے واقعات اور خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں طالبان کی طرف سے ہونے والے ممکنہ حملوں سے متعلق بھی آگاہ کیا۔

اسی بارے میں