کراچی: حامد میر پر حملے کا مقدمہ ’نامعلوم افراد‘ کے خلاف درج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکار کی مدعیت میں دو نامعلوم ملزمان کے خلاف دائر مقدمے میں قتل کی نیت سے فائرنگ کرنے اور عوام میں دہشت پھیلانے کے علاوہ متنازعہ تحفظِ پاکستان آرڈیننس کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس نے سینیئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف دائر کردیا ہے۔

یہ مقدمہ ایئر پورٹ تھانے میں حکومت کی جانب سے درج کیا گیا ہے۔

انسپیکٹر شہادت حسین کی مدعیت میں دائر مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سنیچر کے روز سینیئر صحافی حامد میر کراچی ایئرپورٹ سے اپنے دفتر جا رہے تھے کہ ان پر قتل کے ارادے سے نامعلوم افراد نے فائرنگ کی، جس سے لوگوں میں دہشت پھیل گئی۔

فریادی نے بتایا ہے کہ حامد میر کی طبعیت تاحال ناساز ہے اس لیے سرکاری کی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کیا جائے۔

دو نامعلوم ملزمان کے خلاف دائر مقدمے میں قتل کی نیت سے فائرنگ کرنے اور عوام میں دہشت پھیلانے کے علاوہ متنازعہ تحفظِ پاکستان آرڈیننس کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ حامد میر کے بھائی عامر میر نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا تھا، جس کے باعث جیو انتظامیہ کو مشکلات اور بعض حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وزارت دفاع نے جیو کے خلاف کارروائی کے لیے پیمرا کو لیٹر بھیجا ہے۔

ادھر صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر نے حکومت کی جانب سے جیو نیوز پر پابندی کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔

تنظیم کے ایشیا پیسفک ڈیسک کے سربراہ بینجمن اسماعیل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حامد میر کے بھائی کا انٹرویو ٹیلی کاسٹ کرنا جرم کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔

تنظیم کے مطابق جس ایجنسی پر ملوث ہونے کا الزام ہے وہ فوج کے محکمہِ تعلقات عامہ کے ذریعے الزامات کا جواب دینے میں آزاد تھی۔

تنظیم نے حکومت پاکستان کو جیو نیوز یا اس کے اینکر حامد میر کے خلاف کسی بھی کارروائی سے باز رہنے کی تنبیہ کی ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کی تجویز پر تشکیل دیا گیا عدالتی کمیشن 28 اپریل سے کراچی میں سماعت کرے گا، یہ کمیشن جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس اقبال حمید الرحمان پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں