’پولیو مہم میں رکاوٹ بنیں گے اور نہ حملے کریں گے‘

پرویز خٹک تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption وزیرِ اعلی پرویز خٹک نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ بحثیت وزیر اعلی وہ بے اختیار ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلی پرویز خٹک نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مزاکرات میں پولیو کارکنوں پر حملے ایجنڈے میں شامل تھے اسی وجہ سے نہ صرف پولیو کارکنوں پر حملوں میں کم آئی ہے بلکہ مہم بھی کامیابی کی جانب بڑھ رہی ہے۔

پشاور میں بی بی سی اردو سروس کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ پولیو کے کارکنوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث یہ بیماری خیبر پختون خوا میں خطرناک حد تک پھیلتی جارہی تھی اور اس نئے رحجان کا روکنا ناگزیر ہوچکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ امن بات چیت میں اس بات کو خصوصی طور پر ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ آئندہ عسکریت پسند پولیو مہم میں رکاوٹ بنیں گے اور نہ کارکنوں پر حملے کیے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صحت کا انصاف پروگرام کے دوران لاکھوں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں

’ ہم نے اس مقصد کےحصول کے لیے صوبے میں خصوصی طورپر صحت کا انصاف پروگرام شروع کیا تاکہ اس کے ذریعے سے پولیو کی بیماری پر قابو پایا جاسکے اور اب دو مہینوں سے جاری اس مہم میں کامیاب بھی رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ جب سے صحت کا انصاف پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے اس کے بعد سے صوبے میں پولیو کارکنوں پر کوئی حملہ نہیں ہوا ہے اور اس دوران لاکھوں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پشاور میں کامیابی کے بعد اس پروگرام کا دائرہ اب دیگر اضلاع تک پھیلا دیا گیا ہے اور اگر اس مہم کوئی روکاوٹ نہیں ڈالی گئی تو بہت جلد پولیو سے چھٹکارہ پا لیں گے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ ان کی جماعت تحریک انصاف کو تبدیلی کے نام پر ووٹ ملا تھا لیکن وہ بظاہر تبدیلی لانے میں ناکام رہے ہیں تو اس پر پرویز خٹک نے کہا کہ تبدیلی یہ نہیں کہ حکومت عوام کےلیے بڑی بڑی سڑکیں بنائیں یا ان کےلیے بلند و بالا عمارتیں کھڑی کی جائیں۔

’میرے نزدیک تبدیلی کا نام نظام کی تبدیلی ہے، پولیس کا نظام بہتر ہوجائے، مختلف اداروں میں اصلاحات کی جائیں، کرپشن اور بدعنوانیوں کا خاتمہ ہو اور نئے موثر قوانین بنائے جائیں یہی اصل تبدیلی ہے ۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک جہاں ہر محکمہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوں وہاں اتنی جلدی کوئی بڑی تبدیلی لانا ناممکن ہے لیکن پھر بھی ایک سال کے مختصر عرصہ میں کسی نہ کسی حد تک وہ نظام کو پٹڑی پر ڈالنے میں کامیاب رہے ہیں۔

’ہماری حکومت کو ایک سال پورا ہونے کو ہے لیکن میں چیلنج کرتا ہوں کہ اس دوران میری کابینہ کے کسی وزیر کے خلاف کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا، کوئی یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ کابینہ کے کسی فرد نے ٹرانسفر میں پیسے لیے ، نوکری فروخت کی یا کسی سرکاری ٹھیکے میں کمیشن لیا ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف حکومت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ کرپشن کو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا چاہے اس کےلیے حکومت بھی چھوڑنا پڑے لیکن اس اصول پر کسی صورت سودے بازی ممکن نہیں۔

وزیراعلی نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ بحثیت وزیر اعلی وہ بے اختیار ہیں اور ان کی حکومت عمران خان کے گھر بنی گالا سے چلائی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا ’میں ایک منٹ کے لیے بھی بے اختیار وزیراعلی رہنا پسند نہیں کروں گا، بے اختیار ہونے سے بہتر ہے کہ میں گھر چلا جاؤں یہ سب بے بنیاد اور جھوٹی باتیں ہیں جس میں کوئی حقیقت نہیں۔‘

البتہ انہوں نے وضاحت کی کہ چونکہ وہ پروفیشنل نہیں ہیں اس لیے عمران خان سے درخواست کی گئی تھی کہ صوبائی محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کےلیے کنسلٹنٹ مقرر کیے جائیں تاکہ تحریک انصاف کے منشور کے مطابق پالیسیاں بنائی جائیں تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حکومت کہیں اور سے چلائی جارہی ہے۔

اس سوال پر کہ خود ان پر بھی الزام لگ رہا ہے کہ انہوں نے اپنے حلقے نوشہرہ میں سو سے زائد نئی آسامیاں پیدا کیں اور ان پر من پسند افراد کو بھرتی کیا گیا؟ اس پر وزیراعلی نے کہا کہ ان کے حلقے میں تمام بھرتیاں میرٹ پر ہوئی ہیں اور اگر کسی نے ان کے خلاف کوئی ایک الزام بھی ثابت کیا تو وہ ہر سزا کےلیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف کلاس فور ملازمین کو بھرتی کرنے کا اختیار ممبران اسمبلی کو دیا گیا ہے اس کے علاوہ باقی تمام نوکریوں کےلیے باقاعدہ ٹیسٹ انٹرویو ہوتے ہیں اور میرٹ کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں