طالبان سے مذاکرات پر انسانی حقوق کمیشن کو تشویش

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے اپنی سالانہ رپورٹ میں حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سن دو ہزار تیرہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ساڑھے آٹھ سو افراد ہلاک ہوئے اور جبری گمشدگیوں کے نوے واقعات رپورٹ ہوئے۔

Image caption انسانی حقوق کی صورت حال پر کمیشن ہر سال اپنی رپورٹ جاری کرتا ہے

رپورٹ کے مطابق بلوچستان سے 129 تشدد سے مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ یہ جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی ہی تھیں۔

رپورٹ جاری کرتے ہوئے ایچ آر سی پی کے سیکرٹری جنرل آئی اے رحمان نے کہا کہ دو ہزار تیرہ کی سب سے خوش آئند بات ایک جمہوری حکومت سے دوسری جمہوری حکومت تک اقتدار کی منتقلی تھی۔

انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے حکومتی عدم دلچسپی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے معاملات کو پورے منظر نامے میں جگہ نہیں دی جا رہی ۔

انھوں نے حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ’ہمیں ڈر اس بات کا ہے کہ طالبان کو عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کی قیمت پر رعایتیں دی جائیں گی۔‘

ملک میں ہونے والی قانون سازی کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ پچھلے سال پارلیمان نے دو درجن کے قریب قانون منظور کیےگئے اورآٹھ صدارتی آرڈیننس جاری کیے گئے جن میں تحفظ پاکستان آرڈیننس بھی شامل ہے ۔

سکیورٹی کے سلسلے میں بنائے گئے اِن قوانین کے باوجود سن دو ہزار تیرہ کے پہلے چند ہفتوں کے دوران فرقہ ورانہ تشدد کے مختلف واقعات میں صرف بلوچستان میں دوسو شیعہ مسلمان ہلاک ہوئے جن کا تعلق ہزارہ بِرادری سے تھا۔ جبکہ اسی سال دیگر دو سو فرقہ ورانہ حملوں میں 687 افراد اپنی جانوں سے گئے۔ یوں تو فرقہ ورانہ تشدد کے واقعات ملک بھر میں پیش آئے لیکن سب سے زیادہ کوئٹہ ، کراچی ، پشاور ، ہنگو اور پاراچنار اس کی زد میں رہے ۔

گذشتہ برس کے دوران سات احمدیوں کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا اور لاہور میں مسلمانوں کے ایک مشتعل ہجوم نے عیسائیوں کی بستی جوزف کالونی پر حملہ کیا اور سو گھر جلا دیئے۔ جبکہ توہین مذہب کے الزام میں سترہ احمدیوں ، تیرہ عیسائیوں اور نو مسلمانوں کو سزا سُنائی گئی۔

اس رپورٹ کے مطابق مختلف جرائم کے ارتکاب میں کم از کم227 افراد کو سزائے موت سُنائی گئی اگرچہ اُن پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں یورپی یونین کی جانب سے سزائے موت دینے پر تشویش کا اظہار کیاگیا تھا جس کے بعد پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد کا سلسلہ رکا ہوا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق پچھلے سال 869 عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا جبکہ آٹھ سو سے زیادہ خواتین نے خودکشیاں کیں ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن دو ہزار تیرہ میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران گیارہ صحافی ہلاک ہوئے اور ورلڈ فریڈم انڈیکس میں ایک سو انہتر ممالک میں پاکستان ایک سو اُنسٹھ ویں نمبر پر آگیا ۔ جبکہ انٹرنیٹ کی آّزادی کو بھی صلب کیاگیا اور یوٹیوب سمیت دیگر ویب سائیٹوں کو بھی بلاک کیا گیا۔