’مشرف نے غداری نہیں، وزیر اعظم کی ایڈوائس پر عمل کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرویز مشرف پر ثبوتوں کے بغیر فردِ جرم عائد کی گئی: فروغ نسیم

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں ان کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ اگر اُن کے موکل تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی لگانے سے متعلق وزیراعظم کی ایڈوائس پر عمل نہ کرتے تو بہت سی آئینی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتیں۔

جمعرات کو خصوصی عدالت میں سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ آئین شکنی یا آئین کو معطل کرنا غیر قانونی عمل ہے لیکن اس پر آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

’وزیراعظم کی ایڈوائس کا ریکارڈ نہیں ملا‘

بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کے چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ خود کہہ چکے ہیں کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ نہیں بلکہ آئین شکنی کا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ 31 مارچ کو وکیلِ استغاثہ نے ثبوتوں کے بغیر اُن کے موکل پر فرد جُرم عائد کروائی جو کہ قانون کے مطابق نہیں تھی۔

پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین شکنی کے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک کے خلاف بھی آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی نہیں کی گئی۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اب تک آئین شکنی سے متعلق جتنے بھی فیصلے کیے ہیں اُن میں ملوث تمام افراد کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے چاہے وہ صدر ہوں یا وزیر اعظم۔

اُنھوں نے کہا کہ سنہ 1998 میں ملک میں مالیاتی ایمرجنسی لگائی گئی اور اس ضمن میں کراچی میں فوجی عدالتیں بھی قائم کی گئیں جنھوں نے ایک شخص کو سزائے موت بھی سُنا دی، تاہم سپریم کورٹ نے اس تمام کارروائی کو معطل کر دیا۔

بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ سنہ 1958 سے ملک میں مارشل لا لگتے رہے ہیں لیکن اُن سے متعلق کوئی بات نہیں کرتا۔

پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت سے سے کہا کہ اُن کے موکل کے خلاف اس مقدمے کی تفتیش کا ریکارڈ فراہم نہ کیا گیا تو پھر غداری کے مقدمے کے لیے دی جانے والی درخواست کی تنسیخ کے لیے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

جمعرات کو اس مقدمے میں جوابی دلائل دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ مقدمے کی منصفانہ عدالتی کارروائی کو چلانے کے لیے ضروری ہے کہ اس مقدمے میں اب تک ہونے والی تفتیش کے ریکارڈ کی ایک نقل ملزم کو بھی فراہم کی جائے۔

بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اگر مقدمے میں ہونے والی تفتیش کی کاپی ایک صحافی کو مل سکتی ہے تو پھر ملزم کے وکیل کو کیوں نہیں دی جا سکتی۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر دستاویزات نہ دی گئیں تو کارروائی کالعدم سمجھی جائے گی۔

یاد رہے کہ اس مقدمے کے چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی تفتیش کی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جاسکتی ہے لیکن وقتی طور پر ملزم پرویز مشرف کے وکلا کو فراہم نہیں کی جا سکتی۔

مقدمے کی سماعت 25 اپریل کو بھی جاری رہے گی۔

اسی بارے میں