ارکانِ اسمبلی سرکاری اسلحہ خانے کےگاہک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان کی مسلح افواج جی تھری رائفل استعمال کرتی ہیں تاہم شدت پسندی کے واقعات کے بعد اہلکاروں کو اے کے 47 رائفل بھی دی گئی ہے

پاکستان میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث جن منتخب نمائندوں نے سرکاری اسلحے خانے سے جی تھری جیسے خودکار ہتھیار حاصل کیے ہیں ان میں خواتین اور سینیٹرز بھی شامل ہیں۔

تاہم ان میں کئی ارکان ایسے بھی ہیں جو تاحال فوج کے ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو سے این او سی کے منتظر ہیں۔

پیپلزپارٹی کی سابق حکومت نے سال 2009 سے سال 2011 تک 239 منتخب نمائندوں کو واہ کینٹ میں اسلحے کے کارخانے سے جدید ہتھیار خریدنے کی اجازت دی تھی۔

ان میں 18 خواتین ارکان بھی شامل ہیں جنھوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔

تاہم 17 منتخب نمائندے ایسے ہیں جن کو تاحال جی ایچ کیو نے واہ کنیٹ سے جی تھری کے علاوہ ایس ایم جی یعنی سب مشین گن اور دیگر اسلحہ خریدنے کا لائسنس جاری نہیں کیا۔

ملک میں موبائل فون کی جدید ٹیکنالوجی تھری جی اور فور جی کے نیلامی کے بعد اس وقت سینیٹ میں جدید اور خودکارہتھیار جی تھری کی بازگشت سنائی دی جب عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر زاہد خان نے وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین سے سوال کیا کہ ’ہم دہشت گرد ہیں جو جی ایچ کیو این اوسی جاری نہیں کر رہا ہے۔‘

جواب میں وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا کہ واہ کینٹ کے فوجی کارخانے سے ارکان کو اسلحہ لینے کے لیے جی ایچ کیو سے اجازت نامے کی شرط کو جلد ختم کر دیا جائےگا اور اس کے لیے قانون سازی کی جائےگی۔

یہاں دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ بلوچستان کی ایک سابق خاتون ایم پی اے کو اسلحہ خریدنے کا لائسنس تو ملا ہے لیکن ان کے شوہر جو اس وقت بھی سینیٹر ہیں کو تاحال این او سی جاری نہیں ہوا۔

این او سی کے منتظر رہنماؤں میں سینیٹر زاہد خان، روزی خان کاکڑ، سلیم احمد منڈی والا، مولا بخش چانڈیو، ایم این اے ڈاکٹر ظل ہما اور سابق گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمودشامل ہیں۔

تاہم این اوسی حاصل کرنے والوں میں سابق وزیراعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی، بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا واسع، سابق صوبائی وزراء سلیم کھوسہ، مولانا عبدالباری آغا کے علاوہ سینیٹر محمد علی رند، سابق وفاقی وزیر سردار محمد عمر گورگیج، سابق وزیر دفاعی پیداوار سردار عبدالقیوم خان ، سابق سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا، خیبر پختونخوا کے سابق ڈپٹی سپیکر کرامت اللہ خان، سندھ کے سابق پارلیمانی سیکریٹری ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے سابق صدر راجہ ذوالقرنین خان شامل ہیں۔

گذشتہ کئی سالوں سے ملک میں امن و امان کی صورتحال کے باعث خیبر پختونخوا، قبائلی علاقوں، بلوچستان اور کراچی میں شدت پسندی کے درجنوں واقعات ہو چکے ہیں شاہد یہی وجہ ہے کہ خودکار ہتھیاروں کی خریداری میں بلوچستان خیبر پختونخوا اور سندھ کے منتخب نمائندوں نے زیادہ دلچسپی ظاہر کی ہے۔

اسی بارے میں