غداری مقدمہ: تفتیش کی نقول کی فراہمی پر فیصلہ محفوظ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کی سماعت نو مئی تک ملتوی کر دی گئی ہے

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے اس مقدمے کی تفتیش کی نقول ملزم کو فراہم کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

دوسری طرف اس مقدمے میں پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ مقدمے کی تفتیش پر آفیشنل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے جمعے کو سابق فوجی صدر کے خلاف مقدمے کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ملک میں آفیشنل سیکرٹ ایکٹ موجود ہے اور اگر اس مقدمے کی تفتیش کا ریکارڈ نیشنل سیکرٹ ایکٹ کے تحت آتا ہے تو پھر اس کی تفتیش کی نقل کسی صحافی کو بھی نہیں دی جانی چاہیے تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

بینچ کے سربراہ نے پراسیکیوشن ٹیم کے رکن طارق حسن سے استفسار کیا کہ اس مقدمے کی تفتیش آفیشنل سیکرٹ ایکٹ کے تحت عمل میں لائی گئی ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر جس کسی نے بھی کسی میڈیا کے بندے کو اس تفتیش کی نقول فراہم کی ہے اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

طارق حسن کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی تفتیش مذکورہ ایکٹ کے تحت تو نہیں کی گئی البتہ اس کی تفتیش کی نقول عدالت کے کہنے پر عدالت میں پیش کر دی جائیں گی۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے سوال اٹھایا کہ اگر ملزم کو اس مقدمے کی نقول فراہم نہ کی گئیں تو پھر شہادتوں کی دوران استغاثہ کے وکیل جو گواہ پیش کریں گے اُن پر جرح کیسے کی جائے گی۔

عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور سماعت 28 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی۔

دوسری جانب اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سابق فوجی صدر کو حاضری سے ایک دن کا استثنیٰ دے دیا ہے۔

اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو ملزم کے وکیل الیاس صدیقی نے کہا کہ اُن کے موکل علاج کی خاطر کراچی گئے ہیں، لہٰذا اُنہیں ایک دن کی حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

اس مقدمے کے وکیلِ استغاثہ ندیم شابش نے اعتراض کیا اس درخواست کے ساتھ ملزم کی میڈیکل رپورٹ بھی لف نہیں کی گئی تو پرویز مشرف کو کیسے محض ایک کاغذ کے ٹکڑے پر استثنیٰ دے دیا جائے۔

عدالت نے پرویز مشرف کے ضمانتیوں سے کہا کہ آئندہ سماعت پر ملزم کی حاضری کو یقینی بنایا جائے۔

سابق فوجی صدر کے خلاف ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے کے تفتیشی افسر کو ساتویں مرتبہ تبدیل کیا گیا ہے۔ وکیلِ استعاثہ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بار بار تفتیشی افسر بدلنے سے مقدمے کی تفتیش متاثر ہو رہی ہے۔

اس کے بعد عدالت نے مقدمے کی سماعت نو مئی تک کے لیے ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں