صوابی: فائرنگ سے سات افراد ہلاک، سات زخمی

(فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صوابی میں یار حسین کا علاقہ حساس سمجھا جاتا ہے جہاں کئی بار دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد کی طرف سے ایک گاڑی پر ہونے والی فائرنگ میں ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب صوابی کے علاقے یار حسین میں پیش آیا۔

یارحسین پولیس سٹیشن کے اے ایس آئی مختار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ عدنان نامی ایک شخص سعودی عرب جا رہا تھا اور ان کے رشتہ دار اسے گاڑی میں پشاور ایئر پورٹ چھوڑنے جا رہے تھے۔ جونہی یہ افراد گھر سے روانہ ہوئے تو اس دوران نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔

مختار خان نے بتایا کہ فائرنگ سے پانچ افراد موقعے ہی پر ہلاک ہو گئے جبکہ دو افراد بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گئے۔

مرنے والے تمام افراد ایک ہی خاندان کے بتائے جاتے ہیں جن میں خود عدنان، ان کے والد اور ایک بہن شامل ہیں۔ زخمیوں کو پشاور اور صوابی کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

ادھر یارحسین کے لوگوں نے اس واقعے کے خلاف صوابی مردان سڑک پر لاشیں رکھ کر احتجاج کیا اور سڑک ہر قسم کے ٹریفک کےلیے بند کر دی۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ مظاہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری طور پرگرفتار کیا جائے۔

اس واقعے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔ پولیس اہلکاروں کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مقتول خاندان کی کسی سے کوئی دشمنی یا لین دین کا کوئی تنازع نہیں تھا۔

دریں اثنا خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے صوابی فائرنگ واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

خیال رہے کہ صوابی میں پچھلے دو تین سالوں سے پولیس، حساس اداروں کے اہلکاروں، پولیو کارکنوں اور این جی او ورکروں پر متعدد مرتبہ حملے ہوچکے ہیں جن میں کئی افراد مارے گئے ہیں۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ صوابی میں یار حسین کا علاقہ حساس سمجھا جاتا ہے جہاں اس سے پہلے کئی بار دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

اسی بارے میں