شمالی وزیرستان: قبائلی تصادم میں آٹھ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحدی مقامات پر زمین کے تنازعے پر دو قبائل کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں کم سے کم 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

تاہم بعض مقامی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد 15 کے قریب بتائی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے لواڑہ منڈی میں سرحد کے دونوں جانب آباد مداخیل اور پیپلی کبل خیل قبائل کے مابین گزشتہ کئی دنوں سے پہاڑی کی ملکیت کے تنازعے پر فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے تین دنوں سے اس لڑائی میں شدت آئی ہے اور فریقین نے مورچہ زن ہوکر ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر راکٹ لانچروں اور میزائیلوں سے حملے کئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک اس لڑائی میں کم سے کم 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم بعض مقامی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد 15 کے لک بھگ بتائی ہے۔

وزیرستان کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ جس پہاڑی کی ملکیت پر لڑائی ہورہی ہے وہ ایک متنازعہ علاقہ سمجھا جاتا ہے جس پر دونوں قبائل دعویداری ظاہر کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں غیر ملکی افواج نے کچھ عرصہ پہلے تک سرحد پر نگرانی کےلیے ایک کمیپ بناہوا تھا جس کی وجہ سے وہاں سے مقامی قبائل کو بے دخل کیا گیا تھا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ غیر ملکی افواج نے اب وہ علاقہ چھوڑ کر وہاں سے چلے گئے ہیں جس کے بعد سے وہاں ایک قبیلے نے آکر قبضہ جمایا ہوا ہے جبکہ مخالف قبیلے کا دعوی ہے کہ پہاڑی ان کی ملکیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقہ ہونے کی وجہ سے وہاں ٹیلی فون یا موبائل فون کی سہولت موجود نہیں جس کے باعث وہاں سے مصدقہ اطلاعات ملنے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ جس علاقے پر قبائل کے مابین تنازعہ ہے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کی حدود میں واقع ہے۔ تاہم ابھی تک اس سلسلے میں سرکاری طورپر کچھ نہیں بتایا گیا ہے اور نہ پاکستان یا افغان حکام کی جانب سے اس پر کوئی بات کی گئی ہے۔ #