’قانون منظور ہوا تو ملک گیر احتجاجی تحریک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکومت نے رواں ماہ تحفظِ پاکستان بل کومنظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کیا تو حزب اختلاف نے اس بل کو کالا قانون قرار دے کر اس کی مخالفت کی

پاکستان تحریک انصاف، ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، بلوچ قوم پرست سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے تحفظ پاکستان بل کو کالا قانون قرار دیا ہے۔

ان جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر پارلیمنٹ نے اس قانون کو منظور کیا تواس کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔

اتوار کو لاہور میں واقع دراب پیٹل آڈیٹوریم میں انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے زیر اہتمام سیمنار منعقد ہوا۔

سیمنار میں بات کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ نے تحفظ پاکستان قانون کو منظور کیا تو سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کے ارکان بھی سڑک پر ہوں گے اور کسی صورت بندوق کے اس قانون کو نافذ نہیں ہونے دیں گے۔

انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ سابقہ دور میں اس سے بھی گھناؤنا قانون بنایا گیا جس کے نتیجے میں اس وقت بھی سوات میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ افراد فوجی قید خانوں یا کیمپوں میں موجود ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ جس طرح وہ خود کے لیے قانونی تقاضوں کا مطالبہ کرتی ہیں اسی طرح وہ چاہتی ہیں کہ طالبان اور دیگر لوگوں کو بھی قانون کے عمل سے گذرنے کا حق دیا جائے۔

ایم کیوایم کےرہنما سینیٹر فاروق ستار نے کہا کہ اس قانون کا اطلاق اگر دہشت گردوں پر بھی کیا جائے گا تو وہ اس کے بھی خلاف ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت سکیورٹی اداروں کو موقع پر گولی مارنے، وارنٹ کے بغیر گھروں پر چھاپہ گرفتاری اور وجہ بتائے بغیرحراست میں رکھنے کا حق دے دیا جائے گا جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ1919 میں انگریزوں نے رولٹ ایکٹ نافذ کیا تو سول نافرمانی کی تحریک چلی اور جلیانوالہ باغ میں پانچ سو ہندوستانیوں نے جان کا نذرانہ دیا۔

انھوں نے کہا کہ آج کالے انگریز یہ قانون نافذ کریں گے تو پانچ سو نہیں پانچ لاکھ افراد جان دینے کو تیار ہوں گے۔

فاروق ستار نے اس قانون کو رولٹ ایکٹ اور انڈیا کے قانون ٹاڈا سے بھی بدتر قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ آج ایم کیو ایم کے 45 کارکن اس قانون کے تحت حراست میں ہیں تو انھیں ڈر ہے کہ کل خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف بھی اسی قانون کے تحت پکڑے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے یہ قانون آرڈیننس کی شکل میں 240 روز تک نافذ رہا لیکن کسی ایک بھی طالبان یا فرقہ وارانہ فساد کرنے والے کے خلاف اس قانون کا استعمال نہیں ہوا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی عدیل نے کہا کہ اگر یہ قانون قبائلی علاقوں اور وزیرستان وغیرہ میں نافذ نہیں ہوگا تو پھر اس کا کیا فائدہ ہے؟

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر زرداری کی ملاقات کے نتیجے میں اب پیپلز پارٹی سینیٹ میں اس قانون کی حمایت کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں 20 لاکھ بنگالی بہاری اور لاکھوں افغانی موجود ہیں جو دہشت گرد نہیں ہیں لیکن اس قانون کے تحت جو بھی شخص پاکستانی شہری نہیں اور غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم ہے اسے دشمن قرار دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ہم بیرون ملک غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں سے ہمدردی ہے تو پھر پاکستان میں موجود تارکین وطن کا بھی خیال کرنا ہوگا۔

جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے اسے کالا قانون قرار دیا اور کہا کہ اس کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ محض معلومات کی بنیاد پر کسی کو نہیں مارا جاسکتا کیونکہ معلومات بعد میں غلط بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اس قانون کو ضابطہ فوجداری پر ترجیح دی گئی ہے اور اس کے تحت نئی عدالتیں قائم ہوں گی جس کا مطلب ہے کہ من پسند ججوں کے ذریعے من پسند فیصلے لیے جائیں گے۔یہ پہلے سے موجود عدلیہ پر عدم اعمتاد ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس قانون کی شدت سے مخالفت کی جائے گی۔

تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شفقت محمود نے کہا کہ ان کی جماعت نے اس قانون کو اصولوں کی بنیاد پر رد کیا ہے اور وہ اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔

انھوں نے کہا ماضی میں بھی نواز شریف نے انسداد دہشت گردی کاقانون بنایا لیکن بعد میں ان کی حکومت جانے کے بعد اس قانون کا اطلاق خود نواز شریف پر ہوا۔

بلوچ رہنماؤں نے اس قانون کو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جبر کے قوانین کا استعمال مزید دوریاں پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کی 18 تاریخ کو حکومت نے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تحفظ پاکستان بل کو منظوری کے لیے سینٹ میں پیش کر دیا تھا اور سینیٹ میں حزب اختلاف نے بل کو کالا قانون قرار دے کر اس کی مخالفت کی ہے۔

اس سے دو ہفتے قبل قومی اسمبلی سے اس بل کو منظور کرایا گیا تھا۔

اسی بارے میں