اصل مذاکرات تو ابھی شروع ہی نہیں ہوئے: پروفیسر ابراہیم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تحریک طالبان نے اس ماہ کے شروع میں جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کیا تھا

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی حکومت سے مذاکرات کرنے کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کے رابطہ کار پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ اصل مذاکرات تو ابھی شروع ہی نہیں ہوئے اور ایسا اس وقت ہی ممکن ہے جب طالبان کی شوریٰ کی طرف سے تفصیلی مطالبات موصول ہو جائیں گے۔

بی بی سی اردو سروس سے انٹرویو میں پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ حکومت کے ساتھ آخری ملاقات میں وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ حکومت کا صرف اور صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ ملک میں امن قائم ہو۔

پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ آخری ملاقات میں یہ طے پایا تھا کہ حکومتی اور طالبان کمیٹی کی ملاقات طالبان کی شوریٰ سے کروائی جائے اور اس بارے میں پیغام طالبان کی شوریٰ تک پہنچا دیا گیا ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ مذاکرات کے آگے بڑھنے میں کوئی رکاوٹ ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ دس بارہ سال پرانا ہے اور اس میں بہت پیچیدگیاں ہیں جن کے باعث بعض اوقات مذاکرات تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال سمتبر میں نواز شریف کی حکومت نے ایک کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس کے بعد کالعدم شدت پسند تنظم تحریک طالبان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سات ماہ کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اب تک حکومت اور طالبان کے درمیان ابتدائی رابطوں کے علاوہ بات کے عمل میں کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی، حتیٰ کہ فریقین مستقل جنگ بندی پر بھی متفق نہیں ہو سکی ہیں۔

ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں اور شدت پسندوں کے خلاف آپریشنز کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مذاکرات اور جنگ کو ساتھ ساتھ چلانے میں بڑی دشواریاں ہوں گی۔

پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ اس سارے عمل میں منفی پہلو بھی ہیں اور مثبت پہلو بھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دونوں طرف سے مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنا کا عزم ایک مثبت پہلو ہے اور یقیناً مذاکرات کے ذریعے ہی ملک میں امن قائم ہو گا۔

پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں میں نمایاں حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک وہ وقت تھا جب ملک کے کئی شہروں میں کئی دھماکے ہوتے تھے لیکن اب اکا دکا کارروائیاں ہوتی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ واقعات افسوسناک ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ یہ واقعات مکمل طور پر ختم ہوجائیں اور ملک میں امن قائم ہو جائے۔

اسی بارے میں