کمیٹیوں کو شکایات کی فہرستیں تیار کرنے کا کہا گیا ہے: یوسف شاہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مولانا یوسف شاہ نے کہا کہ طالبان کو مذاکرات کے لیے جگہ کا انتخاب کرنے کی تجویز دی گئی ہے،’توقع ہے آج جواب آ جائے گا۔‘

حکومتِ پاکستان کے ساتھ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رابطہ کار یوسف شاہ نے کہا ہے کہ مذاکراتی کمیٹیوں کو طرفین کی طرف سے سامنے آنے والی شکایات کی فہرستیں تیار کرنے کا کہا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شکایات کے ازالے کے لیے بنائے جانے والی ذیلی کمیٹی میں موجودہ کمیٹیوں کے ممبران اور صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کا نمائندہ بھی شامل ہوگا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رابطہ کار یوسف شاہ نے بتایا کہ دو سے تین دن میں طالبان شوریٰ اور دونوں مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان ملاقات ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کو مذاکرات کے لیے جگہ کا انتخاب کرنے کی تجویز دی گئی ہے،’توقع ہے کہ جلد جواب آ جائے گا۔‘

اگرچہ حکومتِ پاکستان کا موقف ہے کہ طالبان اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرتی عمل میں کوئی’ڈیڈ لاک‘ نہیں تاہم یوسف شاہ نے تسلیم کیا کہ ذیلی کمیٹی کی تشکیل کا مقصد بات چیت کو بحال کرنا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اب تک ذیلی کمیٹی کی تشکیل ممکن نہیں ہو سکی لیکن کوشش ہے کہ یہ مختصر ترین ہو۔

اس سوال پر کہ یہ کمیٹی کن افراد پر مشتمل ہو سکتی ہے یوسف شاہ نے بتایا ’ذیلی کمیٹی میں سرکاری اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کا ایک ایک ممبر شامل ہوگا اور صوبائی حکومت کا نمائندہ بھی اس کا حصہ بنے گا تاہم طالبان شوریٰ کا کوئی ممبر اس میں شامل نہیں ہو گا۔‘

پاکستان فوج نے اس مذاکراتی عمل میں براہ راست حصہ لینے سے انکار کیا تھا تاہم یوسف نے بتایا کہ فوج تو ویسے بھی ہمارے ساتھ ہے اور امید ہے کہ وہ براہ راست بھی اس عمل میں شامل ہوگی۔

طویل وقفے کے بعد 23 اپریل کو حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان بات چیت کا آغاز ہوا تھا۔

یاد رہے کہ کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے 40 دن کے بعد جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

تحریک طالبان نے جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے میں سنجیدہ ہیں۔ تاہم وزیر داخلہ نے جنگ بندی کی توسیع نہ کیے جانے کے بعد اپنے بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کے بغیر بامقصد مذاکرات کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔

اس سے قبل حکومتی اور طالبان کی کمیٹی کے اجلاس میں سیکریٹری داخلہ نے طالبان کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کے اعلان کے بعد ملک بھر میں ہونے والے شدت پسندی کے واقعات اور خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں طالبان کی طرف سے ہونے والے ممکنہ حملوں سے متعلق بھی آگاہ کیا۔

اسی بارے میں