’طالبان سے مذاکرات پر فوج خوش نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption طالبان کے خلاف فوج کے آپریشنوں میں پانچ ہزار سے زیادہ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں

پاکستان میں تحریکِ طالبان 2007 میں اپنے آغاز سے ہی ایک پرتشدد قوت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

ملک میں خودکش حملہ آوروں نے ہزاروں افراد کو ہلاک کیا ہے اور 2008 میں جب تحریکِ طالبان پاکستان کی کارروائیاں عروج پر تھیں تو وادیِ سوات کا بڑا حصہ ان کے زیرِ اثر تھا۔

طالبان کے خلاف کارروائی کے لیے تعینات ایک لاکھ 56 ہزار فوجیوں کی کمان کرنے والے جنرل خالد ربانی کا کہنا ہے کہ ’اس وقت حکومت مشکل میں تھی اور ہر طرف طالبان تھے۔‘

ان کے مطابق ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب حکومت نے صوبائی انتظامیہ کو پشاور سے کسی محفوظ جگہ منتقل کرنے پر غور شروع کر دیا تھا۔

لیکن پھر جنگ بندی کی کوششوں اور طویل ہچکچاہٹ کے بعد فوج نے 2009 میں سوات میں آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن کے دوران طالبان کو علاقے سے باہر نکال دیا گیا اور حکومت کی عمل داری بحال کروا لی گئی۔

اس کے بعد سے طالبان کے خلاف فوج کے آپریشنوں میں پانچ ہزار سے زیادہ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں لیکن آج طالبان کی عمل داری صرف شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی کے کچھ علاقے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

لیکن اس کے باوجود وہ بڑی قوت ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان کے پاس 25 ہزار جنگجو ہیں اور وہ پاکستان کے بڑے شہروں میں حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ سوال کہ فوج شمالی وزیرستان میں ان کے بقیہ ٹھکانوں کو کیوں نشانہ نہیں بنا رہی، خاصا متنازع ہے۔

فوج کے ناقدین کا خیال ہے کہ وہ ان افغان طالبان کو تحفظ دینا چاہتی ہے جو اس علاقے کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ افغان طالبان کو سٹریٹیجک اثاثے کے طور پر دیکھتی ہے جو افغانستان میں بڑھتے ہوئے بھارتی کردار کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی اور افغان حکومتوں کے درمیان بداعتمادی کی وجہ سے افغان طالبان کی قیادت پاکستان اور پاکستانی طالبان کی قیادت افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہے۔

جہاں شدت پسند سرحدی حدود و قیود کی پابندی سے ماورا نظر آتے ہیں، وہیں پاکستانی، امریکی اور افغان فوج ایسا نہیں کر سکتی اور طالبان اس صورتِ حال کا مکمل فائدہ اٹھاتے ہیں۔

فوج شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے میں ناکامی کی وجہ سیاسی قیادت کی جانب سے اس سلسلے میں حمایت فراہم نہ کرنے کو قرار دیتی ہے۔

لیکن پاکستانی حکومت طالبان کے معاملے میں ایک نئی راہ پر چل رہی ہے اور ان سے مقابلہ کرنے کی بجائے مذاکرات کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ دو برس کے دوران فوج نے قبائلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کیے ہیں

اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے دو نتیجے نکل سکتے ہیں۔ اول یہ کہ کچھ طالبان قیدیوں کی واپسی اور حکومت کی جانب سے ’زرِ تلافی‘ کی ادائیگی کے بدلے لڑائی ترک کر دیں جس کے بعد فوج بقیہ طالبان سے جنگ کر سکتی ہے۔

فوج کو امید ہے کہ ان حالات میں پاکستانی عوام طالبان کے خلاف کارروائی کی حمایت کریں گے کیونکہ یہ طالبان گروہ پرامن حل کی پیشکش ٹھکرا چکے ہوں گے۔

طالبان گروہوں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے یہ حکمتِ عملی کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔

نومبر 2013 میں پاکستانی طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد سوات سے تعلق رکھنے والے ملا فضل اللہ کو طالبان نے نیا سربراہ چُنا ہے۔

پاکستان میں طالبان کی تحریک کے آغاز کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ ان کی قیادت محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کے پاس نہیں اور کچھ محسود اس صورتِ حال سے خوش نہیں۔

پاکستانی حکومت کا خیال ہے کہ اگر اس وجہ سے محسود قبائل تقسیم ہو جائیں تو طالبان کی قوت میں کمی آئے گی۔

مذاکرات کی کامیابی کا دوسرا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ طالبان پاکستان کے شہروں میں اپنی کارروائیاں ختم کرنے پر تیار ہوں، جس کے بدلے میں حکومت قبائلی علاقے میں انھیں اپنی سرگرمیاں بلا روک ٹوک جاری رکھنے کی اجازت دے دے۔

پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہلکار اور موجود وزیراعظم نواز شریف کے معتمد میجر (ر) عامر کا کہنا ہے کہ ’طالبان قبائلی علاقے میں ان حالات کی واپسی چاہتے ہیں جب فوج وہاں موجود نہیں تھی اور اگر فوج وہاں سے نکال لی جاتی ہے تو ممکن ہے طالبان مستقل جنگ بندی کا اعلان کر دیں۔‘

لیکن فوج نہیں چاہتی کہ جو کچھ اس نے ہزاروں جوانوں کی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے وہ مذاکرات کی میز پر ہار دیا جائے۔

جنوبی وزیرستان کے جی او سی جنرل ندیم رضا کا کہنا ہے ’صرف ایک ہی معاہدہ ہو سکتا ہے کہ آئین اور حکومت کی عمل داری کو تسلیم کریں اور پرامن شہری بن کر رہیں۔ یہی معاہدہ ہے۔‘

گذشتہ دو برس کے دوران فوج نے قبائلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کیے ہیں۔

امریکی اور سعودی امداد کو استعمال کرتے ہوئے فوج کے انجینیئروں نے وہاں سڑکیں، آبپاشی اور بجلی کا نظام قائم کیا ہے اور یہ کوششیں اتنی بہتر ہیں کہ جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں پاکستان کے کئی علاقوں سے بہتر انفراسٹرکچر موجود ہے۔

فوج ایسے علاقے کو طالبان کو سونپنے کو تیار دکھائی نہیں دیتی، بلکہ اس کا تو خیال ہے کہ علاقے میں جنگ کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد واپس آ کر اپنے روایتی قبائلی نظامِ زندگی کو دوبارہ اپنائیں اور دوبارہ معاشرے کا حصہ بنیں۔

تاہم مذاکراتی عمل کے بعض حامی سمجھتے ہیں کہ فوج ہی اصل مسئلہ ہے اور اگر وہ علاقے سے چلی جاتی ہے تو طالبان کی مزاحمت جلد ہی دم توڑ جائے گی۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کہتے ہیں کہ ’فوج کچھ نہیں جانتی۔ فوج کوئی حل بھی نہیں ہے۔ جب امریکی خطے سے چلے جائیں گے، جہاد بھی ختم ہو جائے گا۔‘

اسی بارے میں