کراچی: مدرسے میں دھماکہ، تین طلبہ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کو شبہ ہے کہ دھماکہ مدرسے کے اندر ہی ہوا ہے کیونکہ باہر سے پھینکنے کی جگہ موجود نہیں

کراچی کے علاقے اورنگی میں مدرسے میں ایک دھماکے میں کم سے کم تین طلبہ ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں، جنھیں عباسی شہید ہپستال منتقل کیا گیا ہے۔

ایس ایس پی عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ بم دھماکہ اورنگی میں مسجد طاہری کے برابر میں واقع مدرسے میں ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے کہ کسی نے دستی بم پھینکا ہے یا اندر ہی سے دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا ہے۔ انھوں نے تصدیق کی کہ دھماکے میں تین بچے ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔

مدرسے کی تین منزلہ عمارت چاروں طرف سے بند ہے اور اس میں جالی لگی ہوئی ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ دھماکہ مدرسے کے اندر ہی ہوا ہے کیونکہ باہر سے پھینکنے کی جگہ موجود نہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بم ڈسپوزل سکواڈ کو جائے وقوع سے چینی ساخت کریکر بم کی پن اور ٹکڑے ملے ہیں، جس سے پولیس کے شکوک و شبہات کو تقویت ملتی ہے۔

مدرسے کی انتظامیہ اور طالب علموں نے مدرسے کے دروازے بند کر دیے ہیں اور کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، جبکہ زخمیوں اور ہلاک ہونے والے بچوں کے لواحقین بھی پہنچ گئے ہیں۔ ڈی آئی جی جاوید اوڈھو کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پایا جارہا ہے، جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا۔

مدرسہ طاہری کے نائب مہتم قاری فیض اللہ کا کہنا ہے کہ ان کا مدرسہ بارہ تیرہ سال سے قائم ہے اور مدرسے میں چھ سو کے قریب طلبہ اور طالبات زیر تعلیم ہیں، جن میں اندرون سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے طالب علم بھی شامل ہیں لیکن اکثریت مقامی بچوں کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ساڑھے گیارہ بجے کے قریب بچے درس و تدریس میں مصروف تھے کہ باہر سے کسی نے کریکر پھینکا جس میں تین بچے ہلاک ہوگئے۔ انھوں نے کہا کہ بم مدرسے کے اندر لے کر آنے کی بات درست نہیں، اس واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے سارے بچے مقامی ہیں اور کوئی بھی باہرسے نہیں آیا۔

پشتون آبادی کے علاقے فرنٹیئر کالونی میں یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب بچے مدرسے میں سبق پڑھ رہے تھے۔ زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کی عمریں چھ سے 12 سال کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ایک ہفتے میں شہر میں یہ تیسرا دھماکہ ہے۔ اس سے پہلے پولیس انسپکٹر شفیق تنولی پر حملہ کیا گیا، جس میں وہ تین دیگر افراد سمیت ہلاک ہوگئے جبکہ جمعے کے روز دہلی کالونی کلفٹن میں ایک دھماکے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس دھماکے میں امام بارگاہ یثرب جانے والی بس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہ محفوظ رہی تھی۔

اورنگی میں اس سے پہلے پولیس اور رینجرز پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق جس مدرسے میں دھماکہ ہوا ہے، وہ دیوبندی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھتا ہے۔

اسی بارے میں