’کسی‘ کے مطالبے پر آج وزیرِ دفاع تو کل وزیراعظم

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption پاکستانی فوج کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے میڈیا پر آنے والے بیانات سے نالاں ہے

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اگر’ کسی ادارے‘ کے کہنے پر وزیر دفاع خواجہ آصف کو اُن کے عہدے سے ہٹایاگیا تو پھر مستقبل میں وزیر اعظم کو ہٹانے کا مطالبہ بھی سامنے آسکتا ہے۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ سے پاکستانی فوج کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے میڈیا پر آنے والے بیانات سے نالاں ہے۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ملزم کو فوج کے ایک ادارے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (اے ایف آئی سی) نے پناہ دے رکھی ہے۔

فوجی قیادت نے وزیر دفاع کے ایسے بیانات سے متعلق وزیر اعظم کو بھی آگاہ کیا تھا۔

اس کے علاوہ ذرائع کےمطابق فوجی قیادت اس پر بھی تحفظات رکھتی ہے کہ صحافی حامد میر پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد نجی ٹی وی چینل (جیو) پر آئی ایس آئی کے سربراہ پر اس واقع سے متعلق لگنے والے الزامات کے باوجود وزیر دفاع وزیر اعظم کو مذکورہ صحافی کی عیادت کےلیے کراچی کے ہسپتال میں لے کرگئے تھے۔

منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ تمام اداروں کو آئین میں دی گئی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کے حق میں ریلیاں نکالنے کی بجائے اُن کے ساتھ اظہار یکجہتی کے دوسرے بھی طریقے ہیں۔

سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ ریلیوں کی آڑ میں جمہوریت پر شب خون مارنے کے خواب آنکھوں میں لیے پھر رہے ہیں اُن کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ جو لوگ ریلیاں نکال رہے ہیں اُنھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی سے کبھی رابطہ نہیں کیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ علامہ طاہرالقادری عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف مظاہرے کرنے کی بجائے دین کی تبلیغ کے سلسلے میں ریلیاں نکالیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ایسے وزرا کے بیانات کا نوٹس لیں جو ملک میں صوبائیت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ پانی اور بجلی کے محکمے کے وزیرِ مملکت سندھیوں، بلوچوں اور پختونوں کو بجلی چور کہہ رہے ہیں جو کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہے۔

اسی بارے میں