حکومت کی آمرانہ ذہنیت کا پول کھل گیا: آمنہ جنجوعہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہم حکومت کو زیادہ سے زیادہ ایک مہینے کا ٹائم دیں گے: آمنہ جنجوعہ

ڈیفنس فار ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے والی خواتین اور بچوں کے خلاف کارروائی سے حکومت کی آمرانہ ذہنیت کا پول کھل گیا ہے۔

ڈیفنس فار ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن اور مظاہرین کی رہنما آمنہ جنجوعہ نے بی بی سی کی نامہ نگار سارہ حسن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اپنا اصلی چہرہ دکھا دیا ہے، میاں نواز شریف نے ہمارے کیمپ میں آ کر ہمارے ساتھ رو کر کہا تھا کہ وہ لاپتہ افراد کو واپس لائیں گے لیکن کچھ نہیں ہوا۔

اسلام آباد کے ڈی چوک میں انسانی حقوق کی تنظیم ڈیفنس فار ہیومن رائٹس کے زیرِ سرپرستی لاپتہ افراد کے لواحقین کا دھرنا کل سے جاری ہے جسے انھوں نے منگل کو بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ پیر کی شام اسلام آباد پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا تھا۔

اس کارروائی کے دوران متعدد مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا تھا، تاہم وزیراعظم نواز شریف نے گرفتار کیے جانے والے تمام مظاہرین کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

آمنہ جنجوعہ نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کے لیے ملک کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثاری علی خان کوذمہ دار ٹھہراتے ہوئے الزام لگایا کہ ’اس کے ذمہ دار چوہدری نثار علی خان ہیں۔ وہ ہر پاکستانی شہری کی جان، مال، عزت، آبرو اور آزادی کے ذمہ دار ہیں، اور یہ نہیں ہو سکتا کہ ان کو اس سب کا علم نہ ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ پولیس نے مظاہرین میں شامل خواتین کو مارا پیٹا جس کی وجہ سے وہ سخت تکلیف میں ہیں۔

انتظامیہ سے بات چیت کی صورت میں دھرنے کو ختم کرنے کے سوال پر آمنہ جنجوعہ نے بتایا کہ ’لوگ تکلیف میں ہیں، زخمی حالت میں ہیں، لوگوں کے سر پھٹے ہوئے ہیں، بازووں پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔ ڈنڈے، سوٹیاں کھا کھا کے ہر ایک لنگڑا رہا ہے، اس حالت میں شام تک ہو سکتا ہے کہ ہم دھرنا ختم کر دیں، لیکن ہم کوئی الٹی میٹم دیں گے۔‘

انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’زیادہ سے زیادہ ہم حکومت کو ایک مہینے کا ٹائم دیں گے۔ پھر اس کے بعد ہم ایک ایسی حکمتِ عملی کے ساتھ آئیں گے کہ ہم نہ واپس جائیں گے اور نہ حکومت کے پاس اس کا حل ہوگا۔‘

پیر کو مظاہرین کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ایک مقامی پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین نے اس علاقے میں احتجاجی کیمپ لگانے کی اجازت نہیں لی تھی، اس لیے انھیں ہٹانے کی کوشش کی گئی تھی۔

اسی بارے میں