بلوچستان: پسنی میں’گرفتاریوں‘ کے خلاف ہڑتال

Image caption ان افراد کی گرفتاری کے خلاف بدھ کو پسنی شہر میں کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے پسنی میں 10 سے زائد افراد کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری کے خلاف احتجاجاً بدھ کو کاروباری مراکز بند رہے۔

ان افراد کی مبینہ گرفتاری پسنی شہر کے وارڈ نمبر چھ سے عمل میں آئی۔

مقامی افراد کے مطابق سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے صبح پانچ بجے سے آٹھ بجے تک اس علاقے کا محاصرہ کر کے 10 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ محاصرے کے دوران فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔

ان افراد کی گرفتاری کے خلاف بدھ کو پسنی شہر میں کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے۔

کوئٹہ میں بدھ کی شام تک فرنٹیئر کور بلوچستان کے ذرائع نے ایسی کسی کارروائی اور 10 سے زائد افراد کو گرفتار کرنے کے اقدام کی تصدیق نہیں کی۔

پولیس کے ذرائع کے مطابق بدھ کی شام تک پسنی پولیس سٹیشن میں کوئی رپورٹ بھی درج نہیں ہوئی۔

پسنی میں بدھ کو رونما ہونے والے واقعہ کے سلسلے میں کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پسنی میں بی ایل ایف کے کارکنوں نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا۔

بیان میں سکیورٹی فورسز کو نقصان پہنچانے کو دعویٰ کیا گیا لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

دوسری جانب کالعدم بلوچ نیشنل لبریشن فرنٹ نے تربت میں میرانی ڈیم اور بلوچ ر یپبلیکن گارڈز نے نصیر آباد کے علاقے ربیع کینال میں سکیورٹی فورسز پر حملوں اور انھیں نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا جس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں