’ہمیں آئی ایس آئی سے پیار ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی ایس آئی پر تنقید کے بعد فوج کے حامی سڑکوں پر نکل آئے

اگر آپ کا گزر اسلام آباد کی کسی مرکزی شاہراہ سے ہو تو آپ کو محسوس ہوگا کہ ملک میں کسی انتخابی معرکے کی آمد آمد ہے، حالانکہ ملک میں فی الحال کسی انتخاب کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

انتخابی سٹائل کے یہ پوسٹر کسی سیاسی رہنما کی تشہیر کے لیے نہیں لگائےگئے ہیں بلکہ یہ پوسٹر اس ’عوامی ردعمل‘ کا اظہار ہیں جو جیو نیوز کی طرف سے آئی ایس آئی پر ’گمراہ کن‘ الزامات لگائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

ان پوسٹروں کا مقصد آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ سربراہ لیفٹینٹ جنرل ظہیر السلام کی حمایت کرنا مقصود ہے جن کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ شہرت کے شوقین نہیں ہیں۔

ان بینروں پر تحریر ہے: ’ہمیں پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی سے محبت ہے،‘ اور ’ہم ان کی شہرت کو داغدار کرنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔‘

حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد ان کے بھائی عامر میر نے الزام عائد کیا تھا کہ آئی ایس آئی اس حملے کی ذمہ دار ہے۔ جیو نیوز نے کئی گھنٹوں تک عامر میر کا الزام آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر السلام کی تصویر کے ساتھ نشر کیا۔

حامد میر پر حملے کے حوالے سے جیو نیوز کی کوریج ’غیر معمولی‘ تھی جس کا یہ مطلب نکالاگیا کہ جیو نیوز نے بغیر کسی تحقیق کے آئی ایس آئی کو حملے کا قصور وار قرار دے دیا ہے۔ اس سے پہلے آئی ایس آئی کے بارے میں اس انداز کی کوریج کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد کی شاہراہوں آئی ایس آئی کے حامی پوسٹروں سے بھری پڑی ہیں

آئی ایس آئی پر جنگ گروپ کے الزامات کے بعد اس کی حمایت میں وہی گروپ سامنے آگئے جو اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد فوج اور آئی ایس آئی کے حق میں مظاہرے کر رہے تھے۔ یہی چہرے اس وقت بھی سڑکوں پر دیکھےگئے تھے جب امریکی فوجیوں نے پاکستانی فوج کی چوکی حملہ کر کے درجنوں پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا، جس کے بعد پاکستان کے راستے نیٹو افواج کی رسد کو روک دیا گیا تھا۔

یہ بھی پہلی بار نہیں ہے جب جنگ گروپ پر جان بوجھ کر رائے عامہ کوگمراہ کرنے اور عوامی عہدےداروں کا ’میڈیا ٹرائل‘ کرنے کا الزام لگا ہو۔

گذشتہ پانچ برسوں میں جیو نیوز تواتر کے ساتھ سابق صدر آصف علی زرداری کو بدعنوان ظاہر کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، حالانکہ ملک کی کسی عدالت نے انھیں قصور وار قرار نہیں دیا۔

جیو نیوز کے میڈیا ٹرائل کی روش نے دوسرے ٹی وی چینلوں کو بھی اپنے لپیٹ میں لے لیا اور انھوں نے بھی جیو کی دیکھا دیکھی اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے لوگوں کا میڈیا ٹرائل کرنا شروع کر دیا ہے۔

کئی لوگوں کو شک ہے کہ آئی ایس آئی سیاست دانوں کے میڈیا ٹرائل میں ٹی وی کے پیش کاروں کو غلط معلومات فراہم کرتی رہی ہے تاکہ ان کو دباؤ میں رکھا جا سکے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی اور جیو نیوز اپنی غلط حرکتوں کا نشانہ بن گئے ہیں۔

جیو نے جب اسی روش پر چلتے ہوئے آئی ایس آئی کا میڈیا ٹرائل کرنے کی کوشش کی تو اسے جواب میں ملک دشمنوں قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کی الزام کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید فوج کے حامیوں کی قیادت کرتے نظر آ رہے ہیں

اس سے قبل بھی آئی ایس آئی پر الزام لگتے رہے ہیں کہ وہ صحافیوں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ گذشتہ آٹھ برسوں میں آئی ایس آئی پر بالواسطہ طور صحافیوں کو دھمکانے، اغوا کرنے اور حتیٰ کہ قتل تک کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

آئی ایس آئی کو چلانے کے لیے کسی قانون کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ خود ہی قومی سلامتی کی ضامن بن گئی ہے اور ملک میں سماجی مباحثے کو اپنے انداز میں ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے۔

ملک میں جہادی گروہوں کا پھیلاؤ اور ان کے سیاسی دھڑے کی موجودگی آئی ایس آئی کی ’خودمختاری‘ کی کچھ نشانیاں بتائی جاتی ہیں۔

نوے کی دہائی میں وہ اردو اخباروں کے ذریعے سماجی مباحثے کو ڈھالتی تھی اب وہ یہی کام ٹی وی چینلوں کے ذریعے کرتی ہے۔

ٹی وی ٹاک شو کے میزبان اکثر اپنی نجی محفلوں میں بتاتے ہیں کہ کس طرح آئی ایس آئی کے اہلکار پروڈیوسروں کو پروگراموں کے خیالات پیش کرتے ہیں اور پھر سابق فوجیوں کو ان پروگراموں میں شامل کروا کر کے رائے عامہ کو اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تاریخی طور پر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور بڑے میڈیا گروپ قدامت پسند قوتوں کے حامی رہے ہیں جس کی وجہ سے شدت پسند مذہبی گروہوں کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوج کےحق میں مظاہرہ کرنے والے وہی ہیں جو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سڑکوں پر نکلے تھے

اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا ہاؤسز کے اتحاد میں پہلی بڑی دراڑ 2007 میں چیف جسٹس افتخار چودھری کو نکالے جانے کے بعد چلنے والی وکلا تحریک کےدوران سامنے آئی۔ وکلا کی اس مہم کے باعث برسوں سے اقتدار پر بلاشرکت غیرے قابض فوجی حکمران کی گرفت کمزور ہوئی اور اسے چیف جسٹس کو دوبارہ بحال کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

چیف جسٹس کو نکالنے کے خلاف وکلا کی تحریک کا ایک بڑا حصہ ٹی وی سکرینوں پر لڑاگیا جہاں صحافی پہلی بار ملک کے فوجی حکمران کے خلاف کھڑا ہوئے۔

وکلا تحریک کی کامیابی کے وقت سے میڈیا کی طاقت میں اضافہ دیکھنےمیں آیا ہے اور انھوں نے ایسے موضوعات پر بحث کرنی شروع کر دی ہے جو اس سے پہلے شجرِ ممنوعہ سمجھے جاتے تھے۔

حامد میر کا پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ پرائم ٹائم پر حالاتِ حاضرہ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ہے۔ کیپٹل ٹاک میں بلوچستان میں فوج کے کردار پر کڑی تنقید ہوئی، جہاں مقامی لوگ آئی ایس آئی اور اس سے منسلک گروہوں پر سیاسی کارکنوں کو ہلاک کرنے کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

حامد میر سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے خلاف آئین سے غداری کا مقدمہ چلانے کےحوالے سے ایسے خیالات کا اظہار کرتے تھے جو پاکستان کی فوج کے خیال سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ پاکستانی فوج کو اپنے سابق فوجی سربراہ کے خلاف غداری کے مقدمے پر تحفظات ہیں۔ فوج سمجھتی ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلنے کی صورت میں فوج کی شہرت پر منفی اثر پڑے گا۔

جہاں نواز شریف کی حکومت نے سابق فوجی سربراہ کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے میں دلچسپی ظاہر کی تو وہیں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے فوج کے ’وقار‘ کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے۔

حامد میر پر حملے نے فوج، سیاست دانوں اور ذرائع ابلاغ میں چلنے والی لڑائی پر جلتی پر تیل کا سا کام کیا ہے۔

اسی بارے میں