کراچی سے مزید چار تشدد شدہ لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جبری گمشدگیوں اور لاشیں پھینکنے کے واقعات کا دائرہ کار خیبر پختونخوا اور سندھ تک پھیل گیا: حقوقِ انسانی کمیشن

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مضافاتی علاقے میمن گوٹھ سے چار تشدد شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

لاشوں کو جناح ہپستال منتقل کر دیا گیا ہے۔

رواں برس کراچی اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے 18 سے زائد تشدد شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔

میمن گوٹھ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ چاروں لاشیں لنک روڈ پر ویران علاقے سے بدھ کی دوپہر کو ملی ہیں، جن کی عمریں 25 سے 30 کے درمیان ہیں اور انھیں قریب سے گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

پولیس کو لاشوں کے قریب سے نائن ایم ایم پستول کی گولیوں کے کچھ خول بھی ملے ہیں۔

پولیس کے مطابق چاروں نوجوان شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جب کہ ان کے ہاتھوں اور پیروں کے علاوہ منہ پر بھی کپڑا بندھا ہوا تھا۔

ایدھی ٹرسٹ کے رضاکاروں نے لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے جناح ہپستال پہنچا دی ہیں۔

میمن گوٹھ تھانے کی حدود سے اس سے پہلے بھی تشدد شدہ لاشیں ملتی رہی ہیں، جن میں لاپتہ افراد سمیت مختلف مذہبی گروہوں اور سیاسی جماعتوں کے کارکن شامل تھے۔

رواں سال جنوری میں سپر ہائی وے جانے والی سڑک سے چار افراد کی لاشیں ملی تھیں، جن میں سے دو کی شناخت شربت خان اور کفایت خان کے نام سے ہوئی اور ان کا تعلق وزیرستان سے تھا۔ دونوں کے لواحقین نے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں نیو سبزی منڈی سے نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

اسی طرح 15 فروری کو میمن گوٹھ کے علاقے ڈلموٹی سے دو نامعلوم افراد کی لاشیں ملی تھیں جنھیں گولیاں مارکر ویرانے میں پھینک دیا گیا تھا۔ 19 مارچ کو بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ جام گوٹھ کے قریب پیش آیا تھا جہاں سے ایک شخص کی لاش ملی تھی۔

تین اپریل کو سپر ہائی وے جانے والی سڑک پر ایک زیرِ تعمیر عمارت کے قریب سے 25 سے 30 سال کی عمر کے دو نوجوانوں کی تشدد شدہ لاشیں ملی تھیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ان کے چہروں پر داڑھیاں تھیں اور انھوں نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔

Image caption بلوچستان میں مسخ شدہ لاشیں ملنے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں جبکہ صوبے میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے متعدد احتجاج ہو چکے ہیں

کراچی شہر کے علاوہ اس کے قریبی علاقوں سے بھی لاشیں ملتی رہی ہیں۔ 19 فروری کو سپر ہائی وے سے متصل نوری آباد کے علاقے سے ایک تشدد شدہ لاش ملی تھی، جس کو پولیس نے لاوارث قرار دے کر اس کی حیدرآباد میں تدفین کر دی تھی۔ اس کے بعد ریکارڈ کے ذریعے مقتول کی شناخت عبدالجبار کے نام سے کی گئی تھی جو ایم کیو ایم کے کارکن تھے اور آٹھ فروری سے لاپتہ تھے۔

اسی طرح 21 اپریل کو کراچی کے قریب دھابیجی کے لنک روڈ سے چار لاشیں برآمد ہوئی تھیں، جن کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے۔ اس سے پہلے اسی علاقے سے متحدہ قومی موومنٹ کے دو کارکنوں کی لاشیں ملی تھیں۔ ایم کیو ایم نے الزام عائد کیا تھا انھیں اغوا کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ انسانی حقوق کمیشن نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ جبری گمشدگیوں اور لاشیں پھینکنے کے واقعات کا دائرہ کار خیبر پختونخوا اور سندھ تک پھیل ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اکثر مجرم سزا سے بچ نکلتے ہیں اور یہی ان واقعات میں اضافے کی بڑی وجہ ہے، جس کا خاتمہ کیا جائے۔

انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو جبری گمشدگیوں سے تحفظ فراہم کرنے کے بین الاقوامی میثاق کی توثیق کی جائے۔

اسی بارے میں