پاک افغان تجارت میں نمایاں کمی

پاک افغان تجارت تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پاکستان اور افغانستان میں لگائی جانےح والی پابندیوں سے تجارت کم ہوتا جا رہی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ چند سال کے دوران دو طرفہ تجارت میں تقریباً 35 فیصد کمی آئی ہے ۔

دو طرفہ تجارت میں کمی کی سب سے بڑی وجہ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے میں مشکلات اور دونوں ممالک کی طرف سے تجارتی پالسیوں میں تبدیلیاں بتائی گئی ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزرات خزانہ اور مالیات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2011 میں دونوں ممالک کے مابین تجارت کا حجم 143 ارب روپے تک رہا لیکن 2012، 2013 اور 2014 میں یہ تجارت کم ہوکر بالترتیب 97، 109 اور 103 ارب روپے تک ریکارڈ کی گئی۔

پاکستان سے زیادہ تر تعمیراتی سامان، پلاسٹک کی مصنوعات، مشروبات اور خوردنی اشیا افغانستان برآمد ہوتی ہیں۔ تاہم دونوں ممالک نے حال ہی میں بعض اشیا پر دو سو سے تین سو فیصد تک ٹیکسوں میں اضافہ کیا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان تاجروں کو پہنچ رہا ہے۔

پشاور کے صنعت کار حاجی فضل الہی حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ پشاور میں واقع پلاسٹک کا پائپ تیار کرنے کے کارخانے کے مالک ہیں۔

ان کی فیکٹری کا تیارکردہ زیادہ تر مال افغانستان برآمد ہوتا ہے تاہم گذشتہ تین سالوں سے تجارتی سرگرمیاں ماند پڑنے کی وجہ سے ان کے کاروبار پر کافی حد تک اثر پڑا ہے۔

حاجی فضل الہی کا کہنا ہے کہ مال کے مانگ میں کمی کی وجہ سے ان کی فیکٹری میں کئی مشنیں بند ہو چکی ہیں جب کہ مزدوروں کو بھی فارغ کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’آج کل مال سمگلنگ اور دیگر طریقوں سے افغانستان برآمد تو ہو رہا ہے لیکن اس کا پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا نقصان ہو رہا ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ دونوں حکومتوں کو تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کےلیے سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔

افغانستان کے پڑوسی ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جس کا زمینی فاصلہ سب سے کم ہے۔ تاہم دونوں ممالک کی حکومتیں اور تاجر اس قربت سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا سکے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرکاری سطح پر پاک افغان جوائنٹ چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم ہے جس کا مقصد دو طرفہ تجارت کو فروغ دینا ہے۔

پشاور میں پاک افغان جوائنٹ چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ڈائریکٹر اور خیبر پختونخوا چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زاہد اللہ شنواری کا کہنا ہے کہ دو طرفہ تجارت میں کمی کا ذمہ دار کوئی ایک ملک نہیں دونوں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’دونوں ممالک کے تاجر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے سے خوش نہیں جو امریکہ کے ڈکٹیشن پر کیا گیا ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ اس معاہدے کی شرائط بڑی سخت ہیں جس سے سرحد کے دونوں جانب تجارت کے فروغ میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

ادھر افغان تاجروں کو شکایت ہے کہ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے سے ان کو فائدے کی بجائے نقصان ہو رہا ہے جس کی وجہ سے اب وہ ایران سے ٹرانزٹ سہولت لینے کی سوچ رہے ہیں۔

افغان خاتون صنعت کار رحیمہ مشخص کا کہنا ہے کہ پاکستان سے انہیں مال وقت پر نہیں ملتا جس سے ان کی تجارت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

ان کے بقول ’بیشتر افغان صنعت کار اب ایرانی بندرگاہ چاہ بہار سے ٹرانزٹ سہولت لے رہے ہیں جو پاکستان کے مقابلے میں انہیں مہنگا پڑ رہا ہے لیکن کم سے کم مال وقت پر تو ملتا ہے۔‘

پاکستانی صعنت کے لیے افغانستان ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ تک کافی منافع بخش ثابت ہوا ہے۔ تاہم اس اہم اور بڑھتی ہوئی منڈی کے ہاتھ سے نکل جانے کا مطلب پاکستان صعنتوں کا خسارہ ہو سکتا ہے۔

ادھر کابل میں پاکستان کے کمرشل آتاشی خورشید خان مروت کا کہنا ہے کہ ریلوے لائن کا منصوبہ شروع کرنے سے دونوں ممالک کے درمیان مستقل بنیادوں پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے جوائنٹ اکنامک فورم کے اجلاسوں میں متعدد مرتبہ ریلوے لائن منصوبے پر بات کی گئی ہے اور اس کی فیزبلیٹی سٹڈی بھی کی گئی ہے تاہم افغانستان کی طرف سے اس اہم منصوبے پر تاحال خاموشی ہے۔

خورشید خان نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ دو طرف سے بنایا گیا ہے جس میں ایک ریلوئے لائن افغانستان کے علاقے سپین بولدک سے چمن سرحد تک بچھائی جائی گی جب کہ دوسرا ٹریک طورخم سرحد سے جلال آباد تک بنانے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس منصوبے کو عملی شکل دی گئی تو ان ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت میں انقلاب آ سکتا ہے۔

اسی بارے میں